Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

ایک نمبر پر نیٹ پی جی نشست
قومی خبریں 🏛️

صرف ایک نمبر لینے والے امیدوار کو حیدرآباد میں ایم ایس آرتھوپیڈکس کی نشست مل گئی، نیٹ پی جی کے کٹ آف پر سوالات

By Editor - Rahbar News
August 9, 2026 4 Min Read
0

تلنگانہ میں ایک سے ننانوے نمبر تک حاصل کرنے والے 20 امیدواروں کو پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستیں الاٹ، سرکاری میڈیکل کالجوں میں بھی کم نمبروں پر داخلے

ایک نمبر پر نیٹ پی جی نشست

حیدرآباد میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل داخلوں سے متعلق ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں نیٹ پی جی میں صرف ایک نمبر حاصل کرنے والے امیدوار کو ایم ایس آرتھوپیڈکس کی نشست الاٹ کی گئی ہے۔ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے جاری کردہ کونسلنگ اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ میں ایک سے ننانوے نمبر تک حاصل کرنے والے 20 امیدواروں کو پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستیں دی گئی ہیں۔

سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا معاملہ ایک ایسے امیدوار کا ہے جس نے 800 میں سے صرف ایک نمبر حاصل کیا۔ اس امیدوار کی آل انڈیا رینک 2,29,981 رہی اور اسے حیدرآباد کے کامینینی اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز میں ایم ایس آرتھوپیڈکس کی نشست الاٹ کی گئی۔ یہ نشست ایس ٹی زمرے کے تحت کمپیٹنٹ اتھارٹی کوٹے کے موپ اَپ راؤنڈ میں دی گئی۔

ایک نمبر پر کیسے ملی میڈیکل نشست؟

یہ داخلہ 2025-26 کے تعلیمی سیشن کے لیے ہونے والی کونسلنگ کے موپ اَپ راؤنڈ کے دوران ہوا۔ کالوجی نارائن راؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق یہ الاٹمنٹ 9 فروری کو جاری کردہ کونسلنگ ریکارڈ میں شامل تھی۔

اس معاملے نے نیٹ پی جی کے اس سال کے کم کیے گئے اہلیتی معیار پر ایک مرتبہ پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ حکام کی جانب سے کٹ آف کم کرنے کا مقصد ملک بھر میں خالی رہ جانے والی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں کو پُر کرنا تھا۔

صرف نجی کالج نہیں، سرکاری کالجوں میں بھی کم نمبروں پر داخلے

تلنگانہ میں ایک سے ننانوے نمبر حاصل کرنے والے 20 امیدواروں کی نشستوں میں سے کم از کم 12 داخلے سرکاری میڈیکل کالجوں میں ہوئے۔ اس میں ریاست کے معروف طبی ادارے بھی شامل ہیں۔

اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انتہائی کم نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو صرف نجی میڈیکل کالجوں میں ہی نشستیں نہیں ملیں بلکہ بعض سرکاری میڈیکل کالجوں میں بھی ایسے امیدواروں کو پوسٹ گریجویٹ نشستیں الاٹ کی گئیں۔

عثمانیہ میڈیکل کالج میں چھ امیدواروں کو نشستیں

حیدرآباد کے عثمانیہ میڈیکل کالج میں ہی کم نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو چھ نشستیں ملیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک امیدوار نے 12 نمبر حاصل کیے اور اسے ایس سی زمرے کے تحت ایم ڈی فارنسک میڈیسن کی نشست ملی۔ ایک دوسرے امیدوار نے 24 نمبر حاصل کیے اور اسے ایم ڈی پیتھالوجی میں داخلہ ملا۔

عثمانیہ میڈیکل کالج میں کم نمبر حاصل کرنے والے دیگر امیدواروں کو آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا اور جنرل سرجری جیسے شعبوں میں بھی نشستیں الاٹ ہوئیں۔ ان امیدواروں کے نمبر 12 سے 99 کے درمیان رہے۔

گاندھی میڈیکل کالج میں بھی تین امیدوار

سکندرآباد کے گاندھی میڈیکل کالج میں بھی ایک سے ننانوے نمبر حاصل کرنے والے تین امیدواروں کو پوسٹ گریجویٹ نشستیں الاٹ کی گئیں۔

ان میں ایک امیدوار نے 59 نمبر حاصل کیے اور اسے ایم ڈی ریڈیولوجی کی نشست ملی۔ دوسرے امیدوار کو 74 نمبر پر ایم ڈی فارماکولوجی جبکہ تیسرے امیدوار کو 91 نمبر پر ایم ایس آرتھوپیڈکس کی نشست الاٹ ہوئی۔

کاکتیہ میڈیکل کالج میں 32 نمبر پر داخلہ

ورنگل کے کاکتیہ میڈیکل کالج میں بھی ایک امیدوار کو صرف 32 نمبر حاصل کرنے کے باوجود ایم ڈی پیتھالوجی کی نشست ملی۔ یہ نشست ایس ٹی زمرے کے تحت الاٹ کی گئی۔

تلنگانہ کے دیگر میڈیکل کالجوں میں بھی ننانوے سے کم نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو بچوں کے امراض اور سانس سے متعلق طبی شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ نشستیں دی گئیں۔

نیٹ پی جی کا کٹ آف کیوں کم کیا گیا؟

ان داخلوں کا تعلق اس فیصلے سے ہے جس کے تحت مرکزی وزارت صحت اور نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز اِن میڈیکل سائنسز نے اس سال نیٹ پی جی کے لیے اہلیتی پرسنٹائل میں کمی کی تھی۔

اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک بھر میں خالی رہ جانے والی ہزاروں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں کو پُر کرنا تھا۔ کٹ آف کم ہونے کے بعد ایسے امیدوار بھی داخلے کی دوڑ میں شامل ہوگئے جن کے حاصل کردہ نمبر انتہائی کم تھے۔

کچھ مخصوص محفوظ زمروں میں اہلیتی معیار مزید کم ہونے کی وجہ سے منفی نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کے لیے بھی نشست حاصل کرنے کا راستہ کھلا۔

کم کٹ آف پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟

نیٹ پی جی کے کٹ آف میں اتنی بڑی کمی نے طبی تعلیم کے معیار سے متعلق سوالات پیدا کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم انتہائی حساس شعبہ ہے، کیونکہ اس مرحلے پر تربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹر مستقبل میں مریضوں کے علاج میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

دوسری جانب حکام کا موقف ہے کہ بڑی تعداد میں پوسٹ گریجویٹ نشستیں خالی رہ جانے سے طبی تعلیم کے دستیاب وسائل کا مکمل استعمال نہیں ہو رہا تھا۔ ایسے میں کٹ آف کم کرکے خالی نشستوں کو پُر کرنا ضروری سمجھا گیا۔

کیا کم نمبر کا مطلب داخلہ آسان ہوگیا؟

اس معاملے کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ ہر امیدوار صرف ایک یا چند نمبر حاصل کرکے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشست حاصل کرسکتا ہے۔ داخلہ مختلف زمرہ جات، نشستوں کی دستیابی، کونسلنگ راؤنڈ، کوٹے اور مقررہ اہلیتی شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔

حیدرآباد میں ایک نمبر حاصل کرنے والے امیدوار کو نشست ملنے کا معاملہ ایک مخصوص کونسلنگ راؤنڈ اور مخصوص زمرے سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے تمام نیٹ پی جی امیدواروں کے لیے عمومی معیار نہیں سمجھا جاسکتا۔

تلنگانہ میں سامنے آنے والے یہ داخلے ایک طرف خالی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں کو پُر کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتے ہیں، تو دوسری طرف انتہائی کم نمبروں پر داخلوں نے طبی تعلیم کے معیار اور مستقبل میں ڈاکٹروں کی تربیت سے متعلق ایک اہم بحث کو بھی دوبارہ زندہ کردیا ہے۔

گھر سے روزگار کے ذریعے بچوں کی تعلیم اور خاندان کا مستقبل کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
پاکستانی ڈرامہ ’’عشق مرشد‘‘ نے یوٹیوب پر مچائی دھوم، 300 کروڑ ویوز کا بڑا سنگ میل عبور
📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
مسلم خواتین کی معاشی خودمختاری
Previous

گھر سے روزگار کے ذریعے بچوں کی تعلیم اور خاندان کا مستقبل کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.