Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

بیٹا نہ ہونے پر عورت کو الزام
صحت 🏥

بیٹا نہ ہونے پر عورت ہی کو کیوں ملتا ہے الزام؟ سائنس نے صدیوں پرانی غلط فہمی کا جواب دے دیا

By Editor - Rahbar News
August 16, 2026 5 Min Read
0

(Beta na hone par aurat ko hi kyun dete hain ilzam? Science ne bata di asal wajah)

(بیٹا نہ ہونے پر عورت کو الزام)

ہمارے معاشرے میں آج بھی بعض خاندانوں میں بیٹا پیدا نہ ہونے پر عورت کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسے طعنے دیے جاتے ہیں کہ وہ بیٹا پیدا نہیں کر سکتی، بعض اوقات دوسری شادی تک کی بات کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اس سوچ کو بالکل غلط ثابت کرتی ہے۔

بچے کے لڑکا یا لڑکی ہونے کا تعلق ماں کے قصور یا اختیار سے نہیں۔ عام انسانی حیاتیات میں بچے کی کروموسومی جنس کا تعین حمل ٹھہرنے کے وقت ہونے والے ایک قدرتی جینیاتی عمل سے ہوتا ہے۔

صدیوں سے عورت کو ہی کیوں ذمہ دار سمجھا گیا؟

جدید جینیات سے پہلے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بچے کی جنس کس طرح طے ہوتی ہے۔ مختلف معاشروں میں اس حوالے سے کئی توہمات اور غلط نظریات موجود تھے۔ خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں بیٹے کو خاندان کا وارث سمجھا جاتا تھا، بیٹا پیدا نہ ہونے کا الزام اکثر عورت پر ڈال دیا جاتا تھا۔

تاریخ میں ایسی خواتین کی مثالیں بھی ملتی ہیں جنہیں صرف اس لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ مرد وارث پیدا نہیں کر سکیں۔

لیکن آج ہمارے پاس اس سوال کا واضح حیاتیاتی جواب موجود ہے۔

انسان کے جسم میں کروموسومز کیا کرتے ہیں؟

انسان کے بیشتر خلیوں میں عام طور پر چھیالیس کروموسومز ہوتے ہیں، جو تئیس جوڑوں میں موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے بائیس جوڑے مختلف جسمانی خصوصیات اور افعال سے متعلق جینیاتی معلومات رکھتے ہیں، جبکہ تئیسواں جوڑا جنسی کروموسومز کہلاتا ہے۔

عام طور پر خواتین میں ایکس ایکس جبکہ مردوں میں ایکس وائی کروموسومز پائے جاتے ہیں۔

یہی فرق بچے کی کروموسومی جنس کے تعین میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماں کے انڈے میں کیا ہوتا ہے؟

خاتون کے جنسی کروموسوم عام طور پر ایکس ایکس ہوتے ہیں۔ انڈہ بننے کے عمل میں ہر انڈے کو ایک جنسی کروموسوم ملتا ہے، جو عام طور پر ایکس کروموسوم ہوتا ہے۔

یعنی ماں کی طرف سے آنے والا انڈہ عام طور پر ایکس کروموسوم فراہم کرتا ہے۔

دوسری طرف مرد کے پاس ایکس اور وائی دونوں جنسی کروموسوم ہوتے ہیں، اس لیے اس کے بننے والے اسپرمز میں ایکس یا وائی کروموسوم ہو سکتا ہے۔

پھر بیٹا یا بیٹی کیسے بنتی ہے؟

جب اسپرم اور انڈہ آپس میں ملتے ہیں تو نئے بننے والے خلیے میں دونوں والدین کا جینیاتی مواد شامل ہوتا ہے۔

اگر ایکس کروموسوم والا اسپرم انڈے کو بارآور کرے تو عام طور پر ایکس ایکس کروموسومی امتزاج بنتا ہے۔

اگر وائی کروموسوم والا اسپرم انڈے کو بارآور کرے تو عام طور پر ایکس وائی امتزاج بنتا ہے۔

سادہ الفاظ میں:

ماں کا انڈہ → ایکس

باپ کا اسپرم → ایکس یا وائی

اسی لیے عام ایکس وائی نظام میں بچے کی کروموسومی جنس کے تعین میں باپ کی طرف سے آنے والا ایکس یا وائی کروموسوم فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

تو کیا بیٹا نہ ہونے پر باپ کو قصوروار ٹھہرائیں؟

بالکل نہیں۔

یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس سائنسی حقیقت کا مقصد یہ نہیں کہ الزام عورت سے ہٹا کر مرد پر ڈال دیا جائے۔

ایکس یا وائی اسپرم کا انڈے سے ملنا ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے۔ والدین عام طور پر اپنی مرضی سے یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کون سا اسپرم انڈے کو بارآور کرے گا۔

اصل مقصد یہ سمجھانا ہے کہ عورت کو بیٹا نہ ہونے کا ذمہ دار قرار دینا سائنسی طور پر غلط ہے۔

وائی کروموسوم اور ایس آر وائی جین کا کیا کردار ہے؟

وائی کروموسوم پر موجود ایک اہم جین ایس آر وائی کہلاتا ہے۔ جنین کی ابتدائی نشوونما کے دوران یہ جین مردانہ جنسی نشوونما کے راستے کو شروع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایکس وائی جنین میں ایس آر وائی جین کے فعال ہونے سے خصیوں کی تشکیل کے عمل کا آغاز ہوتا ہے، جس کے بعد ہارمونز مردانہ تولیدی خصوصیات کی نشوونما میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ پورا عمل اس بات کی ایک مثال ہے کہ انسانی جسم میں جینیاتی معلومات کس قدر منظم انداز میں کام کرتی ہیں۔

ہر انسان صرف ایکس ایکس یا ایکس وائی نہیں ہوتا

انسانی حیاتیات میں بعض قدرتی کروموسومی تغیرات بھی پائے جاتے ہیں۔

مثلاً کلائن فیلٹر سنڈروم میں ایکس ایکس وائی کروموسومی امتزاج ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرنر سنڈروم میں ایکس کروموسوم کی ایک ہی نقل موجود ہوتی ہے۔

اس لیے انسانی جنسی نشوونما ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے اور اسے صرف ایک سادہ فارمولے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

سب سے اہم بات: عورت کو الزام دینا بند کرنا ہوگا

بیٹا پیدا نہ ہونے پر عورت کو طعنے دینا، اسے بانجھ سمجھنا، اس کے کردار پر سوال اٹھانا یا دوسری شادی کو اس مسئلے کا حل سمجھنا سائنسی بنیاد نہیں رکھتا۔

ماں کے انڈے میں عام طور پر ایکس کروموسوم ہوتا ہے، جبکہ باپ کی طرف سے آنے والا اسپرم ایکس یا وائی کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بچے کی کروموسومی جنس کے تعین میں باپ کی طرف سے آنے والا جنسی کروموسوم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

لیکن اس پورے عمل کو کسی ایک والدین کی ’’غلطی‘‘ کہنا بھی درست نہیں۔

بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں کی پیدائش ایک قدرتی حیاتیاتی عمل کا نتیجہ ہے۔

بیٹی پیدا ہونا کوئی کمی نہیں

مسئلہ صرف سائنس نہ جاننے کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا بھی ہے جس میں بیٹے کو بیٹی سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایک ماں نے بچے کو جنم دیا ہے۔ اس بچے کی جنس کی وجہ سے اس ماں کی عزت، محبت یا قدر کم نہیں ہو جاتی۔

اس لیے اگر کسی گھر میں بیٹی پیدا ہو تو ماں سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ ’’بیٹا کیوں نہیں ہوا؟‘‘ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ دنیا میں ایک نئی زندگی آئی ہے اور اسے محبت، عزت اور بہتر مستقبل دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

آخری بات

سائنس نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بیٹا نہ ہونے کا الزام عورت کے سر ڈالنے کی کوئی حیاتیاتی بنیاد نہیں۔ صدیوں پرانی اس غلط فہمی کو ختم کرنا صرف سائنسی شعور نہیں بلکہ معاشرتی انصاف بھی ہے۔

بیٹی پیدا ہونے پر ماں کو قصوروار نہیں، مبارک باد دینی چاہیے۔

ماں: دنیا کی عظیم ترین قربانی اور آخرت کی کامیابی کا ضامن
Rahbar News WhatsApp Channel
Share This Article

Tags:

Aurat ko ilzamBachay ki jins ka taayunBeta na hone par aurat ko ilzamBeta paida na hone ki wajahBeta ya beti kaise paida hoti haiBoy ya girl kaise hota haiPregnancy scienceScience aur pregnancyXX chromosomeXY chromosome
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
بارہویں یا ڈگری پاس
Previous

اسٹینوگرافی کورس: بارہویں یا ڈگری کے بعد سرکاری نوکری، اچھی آمدنی اور بیرون ملک مواقع کا راستہ

آج کے کرنٹ افیئرز
Next

آج کے اہم کرنٹ افیئرز: کرناٹک کا نیا قانون، آبنائے ہرمز معاہدہ، طوفان اور بھارت کی دفاعی تحقیق

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.