لنگ اِن اے باکس‘: جسم کے باہر سانس لیتے پھیپھڑے، ٹرانسپلانٹ کی دنیا میں نئی طبی امید
‘Lung in a Box’: Jism ke Bahar Saans Lete Phaphron Se Transplant Ki Nai Umeed
لنگ اِن اے باکس ٹیکنالوجی
طبی سائنس میں اعضا کی پیوند کاری ہمیشہ وقت کے خلاف ایک دوڑ رہی ہے۔ خاص طور پر پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عطیہ کیے گئے پھیپھڑے انسانی جسم سے باہر زیادہ دیر تک معمول کی حالت میں محفوظ نہیں رہ سکتے۔ روایتی طریقے میں پھیپھڑوں کو ٹھنڈا کرکے برف والے مخصوص ڈبے میں محفوظ کیا جاتا ہے، لیکن اس دوران عضو کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔
اب ایک جدید طبی ٹیکنالوجی نے اس تصور کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔ اسے عام طور پر ’لنگ اِن اے باکس‘ کہا جاتا ہے، جبکہ طبی دنیا میں اس سے وابستہ نظام کو آرگن کیئر سسٹم، یعنی او سی ایس لنگ کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں عطیہ کیے گئے پھیپھڑوں کو برف پر منجمد کرنے کے بجائے جسم کے باہر ایک خصوصی مشین کے اندر گرم رکھا جاتا ہے، انہیں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے اور ان میں خون جیسا غذائیت سے بھرپور محلول گردش کیا جاتا ہے۔
اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صرف پھیپھڑوں کو محفوظ نہیں رکھتے بلکہ ٹرانسپلانٹ سے پہلے ان کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ بعض ایسے پھیپھڑے جو روایتی طریقے سے قابلِ استعمال نہیں سمجھے جاتے تھے، جدید مشین پرفیوژن کے ذریعے دوبارہ ٹرانسپلانٹ کے لیے موزوں بنائے جا سکتے ہیں۔
پھیپھڑے جسم کے باہر کیسے زندہ رکھے جاتے ہیں؟
عام طور پر عطیہ کیے گئے پھیپھڑوں کو جسم سے نکالنے کے بعد کم درجۂ حرارت پر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ماحول خلیوں کی سرگرمی کو کم کردیتا ہے اور اس طرح عضو کو کچھ وقت کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
لیکن ’لنگ اِن اے باکس‘ کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔
اس نظام میں پھیپھڑوں کو ایک جراثیم سے محفوظ خصوصی ڈوم کے اندر رکھا جاتا ہے۔ مشین پھیپھڑوں کو مسلسل وینٹیلیشن فراہم کرتی ہے، جبکہ ایک خاص سرکٹ کے ذریعے گرم اور آکسیجن سے بھرپور غذائیت والا محلول پھیپھڑوں کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔
یوں پھیپھڑے جسم کے باہر بھی ایک ایسی حالت میں رہتے ہیں جو انسانی جسم کے اندر ان کے قدرتی ماحول سے زیادہ مشابہ ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ’محفوظ کرنے والی مشین‘ کہنا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے ڈاکٹر عطیہ کیے گئے عضو کی حالت کو دیکھ، جانچ اور بعض صورتوں میں بہتر بھی کرسکتے ہیں۔
برف والے ڈبے اور ’لنگ اِن اے باکس‘ میں کیا فرق ہے؟
روایتی نظام میں پھیپھڑوں کو ٹھنڈا کرکے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کا مقصد عضو کے اندر ہونے والی حیاتیاتی سرگرمی کو سست کرنا ہے تاکہ ٹرانسپلانٹ تک پھیپھڑوں کو نقصان کم سے کم پہنچے۔
اس کے برعکس گرم مشین پرفیوژن میں پھیپھڑوں کو فعال حالت کے قریب رکھا جاتا ہے۔
مشین:
پھیپھڑوں کو وینٹیلیٹ کرتی ہے۔
گرم غذائیت سے بھرپور محلول کو گردش کراتی ہے۔
آکسیجن کی فراہمی برقرار رکھتی ہے۔
ڈاکٹروں کو پھیپھڑوں کی کارکردگی جانچنے کا موقع دیتی ہے۔
بعض کمزور یا ’مارجنل‘ پھیپھڑوں کو ٹرانسپلانٹ کے لیے دوبارہ قابلِ غور بناتی ہے۔
اس طرح ڈاکٹر کے پاس صرف یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رہتا کہ کوئی عضو اچھا ہے یا خراب، بلکہ بعض حالات میں عضو کو مشین پر رکھ کر اس کی حالت کا مشاہدہ کرنے اور ممکنہ طور پر اسے بہتر بنانے کا موقع بھی ملتا ہے۔
سب سے بڑا فائدہ: وہ پھیپھڑے جو پہلے ضائع ہوجاتے تھے
پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ میں عطیہ کیے گئے ہر پھیپھڑے کو مریض میں منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اعضا میں انفیکشن، سوجن، چوٹ یا دیگر مسائل کی وجہ سے انہیں روایتی طریقے سے ٹرانسپلانٹ کے لیے غیر موزوں سمجھا جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مشین پرفیوژن اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
ایسے پھیپھڑوں کو مشین پر رکھ کر ڈاکٹر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح کام کررہے ہیں۔ اگر عضو مناسب طریقے سے جواب دیتا ہے اور اس کی کارکردگی قابلِ قبول سطح تک پہنچ جاتی ہے تو اسے ٹرانسپلانٹ کے لیے استعمال کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
اس عمل سے ایسے اعضا کے استعمال کا امکان بڑھتا ہے جو روایتی ’آئس باکس‘ طریقے میں شاید مسترد کردیئے جاتے۔
’لنگ اِن اے باکس‘ میں ڈاکٹر پھیپھڑوں کی مرمت بھی کرسکتے ہیں
اس ٹیکنالوجی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مشین صرف پھیپھڑوں کو زندہ رکھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔
چونکہ پھیپھڑے جسم کے باہر ایک کنٹرول شدہ ماحول میں موجود ہوتے ہیں، اس لیے طبی ماہرین کو ان کی حالت کا تفصیلی جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ بعض مخصوص حالات میں علاج یا دیگر طبی اقدامات بھی مشین پرفیوژن کے دوران کیے جاسکتے ہیں۔
اسی وجہ سے ماہرین اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں ٹرانسپلانٹ کے لیے دستیاب اعضا کی تعداد بڑھانے کے ایک اہم راستے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر خراب پھیپھڑے کو مشین کے ذریعے مکمل طور پر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ عضو کو مریض میں منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ طبی ماہرین مختلف ٹیسٹوں، پھیپھڑوں کی کارکردگی اور مریض کی مجموعی حالت کو دیکھ کر کرتے ہیں۔
برطانیہ میں اس ٹیکنالوجی کی اہمیت
برطانیہ میں پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے میدان میں رائل پاپ ورتھ ہسپتال سمیت بڑے طبی مراکز نے جدید مشین پرفیوژن اور ایکس ویوو لنگ پرفیوژن جیسی تکنیکوں کے استعمال میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایسی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان مریضوں کے لیے امید پیدا کرتی ہے جو پھیپھڑوں کی شدید اور آخری درجے کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سسٹک فائبروسس جیسی بیماریوں کے بعض مریضوں کے لیے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ زندگی بچانے والا علاج بن سکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹرانسپلانٹ کے منتظر مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں مناسب عطیہ کیے گئے اعضا محدود ہیں۔
اگر پہلے سے مسترد کیے جانے والے کچھ پھیپھڑوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ، جانچ یا بہتر کرکے استعمال کیا جاسکے تو اس سے عطیہ کیے گئے اعضا کی دستیابی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایک مشین، جو ٹرانسپلانٹ کا وقت بھی بڑھا سکتی ہے
پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ عضو کو عطیہ کرنے والے شخص سے نکالنے کے بعد اسے محفوظ طریقے سے ٹرانسپلانٹ مرکز تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔
روایتی ٹھنڈے ذخیرے کے مقابلے میں گرم مشین پرفیوژن بعض حالات میں طبی ٹیم کو زیادہ فعال طریقے سے عضو کا جائزہ لینے اور ٹرانسپلانٹ کے عمل کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وقت کی پابندی ختم ہوجاتی ہے، بلکہ یہ ٹیکنالوجی اعضا کے انتظام اور ٹرانسپلانٹ کی منصوبہ بندی کے لیے ایک اضافی طبی سہولت فراہم کرتی ہے۔
پھیپھڑے ’سانس‘ کیسے لیتے ہیں؟
یہ سوال اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لیے سب سے دلچسپ ہے۔
مشین کے اندر موجود وینٹیلیشن نظام پھیپھڑوں کے اندر ہوا پہنچاتا اور باہر نکالتا ہے۔ اسی دوران ایک الگ سرکٹ کے ذریعے خون جیسا محلول پھیپھڑوں کے خون کی نالیوں میں گردش کرتا ہے۔
اس طرح پھیپھڑوں کو جسم کے باہر بھی دو بنیادی چیزیں ملتی رہتی ہیں:
ہوا اور گردش کرتا ہوا غذائیت والا محلول۔
مشین کے مختلف پیمانے اور طبی ٹیسٹ یہ جانچنے میں مدد دیتے ہیں کہ پھیپھڑے مناسب طریقے سے کام کررہے ہیں یا نہیں۔
ٹرانسپلانٹ کے لیے نئی امید کیوں؟
دنیا بھر میں اعضا کی پیوند کاری کا ایک بنیادی مسئلہ عطیہ کیے گئے مناسب اعضا کی کمی ہے۔ پھیپھڑوں کے معاملے میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہ عضو بیرونی عوامل سے آسانی سے متاثر ہوسکتا ہے۔
اگر کسی عطیہ کیے گئے پھیپھڑے کو صرف اس لیے مسترد کردیا جائے کہ وہ روایتی معیار پر مکمل طور پر پورا نہیں اترتا، تو ایک ممکنہ زندگی بچانے والا عضو ضائع ہوسکتا ہے۔
مشین پرفیوژن اس صورتحال میں ایک اضافی موقع فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر عضو کو مشین پر رکھ کر اس کی کارکردگی دیکھ سکتے ہیں اور یہ فیصلہ زیادہ معلومات کی بنیاد پر کرسکتے ہیں کہ آیا اسے مریض میں منتقل کرنا محفوظ اور مناسب ہوگا۔
مستقبل میں کہاں تک پہنچ سکتی ہے یہ ٹیکنالوجی؟
’لنگ اِن اے باکس‘ اور ایکس ویوو لنگ پرفیوژن ابھی بھی ٹرانسپلانٹ میڈیسن کے ایک تیزی سے ترقی کرنے والے شعبے کا حصہ ہیں۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف زیادہ اعضا کو ٹرانسپلانٹ کے قابل بنانے بلکہ مخصوص اعضا کی حالت بہتر کرنے، ان کا زیادہ تفصیلی جائزہ لینے اور ممکنہ طور پر مخصوص علاج فراہم کرنے کے امکانات پر بھی تحقیق جاری ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اس بنیادی تصور کو بدل رہی ہے کہ عطیہ کیے گئے پھیپھڑے جسم سے باہر صرف برف پر محفوظ رہنے والا ایک عضو ہیں۔ اب انہیں ایک ایسے فعال حیاتیاتی نظام کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جس کی کارکردگی کو ٹرانسپلانٹ سے پہلے مشین کے ذریعے جانچا اور بعض حالات میں بہتر بھی کیا جاسکتا ہے۔
نتیجہ
’لنگ اِن اے باکس‘ طبی سائنس کی ان جدید کامیابیوں میں سے ایک ہے جو ٹرانسپلانٹ کے سب سے بڑے مسئلے، یعنی مناسب اعضا کی کمی، سے نمٹنے کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔
پھیپھڑوں کو برف پر رکھنے کے بجائے گرم، آکسیجن سے بھرپور اور وینٹیلیٹڈ ماحول میں برقرار رکھنے کی صلاحیت ڈاکٹروں کو وہ موقع دیتی ہے جو روایتی طریقے میں محدود تھا: عضو کو ٹرانسپلانٹ سے پہلے دیکھنا، جانچنا اور بعض صورتوں میں بہتر بنانا۔
اس ٹیکنالوجی کے نتیجے میں ایسے مریضوں کے لیے بھی امید بڑھ سکتی ہے جو طویل عرصے سے مناسب ڈونر پھیپھڑوں کے منتظر ہیں۔ اگر تحقیق اور طبی استعمال اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو مستقبل میں یہ نظام پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے پورے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔