پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہنگامہ، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے
نئی دہلی میں اس وقت کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے نکلے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر وزیرِ تعلیم استعفیٰ دیں۔
پولیس نے پہلے ہی پارلیمنٹ کے اطراف سخت سیکیورٹی اور بیریکیڈز لگا رکھے تھے، لیکن مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے بعد دونوں جانب شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب کچھ مظاہرین نے بیریکیڈز عبور کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق ستر سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ پچاس سے زیادہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ادھر سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے اسپتال سے جلد ڈسچارج کیے جانے کی درخواست کی تاکہ وہ احتجاج میں شامل ہو سکیں۔
پولیس نے بعد میں احتجاجی مقام کو خالی کروا دیا جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان ابتدائی بات چیت بھی شروع ہو گئی۔
اس احتجاج پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں، اور ایسی ہی تازہ خبروں کے لیے رہبر نیوز کو فالو کریں