خود دہلی احتجاج میں نہ جا سکا، مگر 68 ہزار روپے کے 150 پیزا بھجوا دیے! ناگالینڈ کے نوجوان نے انسانیت کی مثال قائم کر دی
نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل جیت لیے۔ ناگالینڈ کے ایک نوجوان نے، جو خود احتجاج
میں شریک نہیں ہو سکا، مظاہرین کے لیے تقریباً 68 ہزار روپے مالیت کے 150 ڈومینوز پیزا بھجوا دیے۔
“یہی میرے بس میں تھا”
انسٹاگرام پر موجود نوجوان نے بتایا کہ وہ ناگالینڈ میں تھا، جبکہ ہزاروں طلبہ اپنے مستقبل اور بہتر تعلیمی نظام کے لیے دہلی میں احتجاج کر رہے تھے۔
اس نے لکھا کہ وہ خود وہاں موجود نہ ہونے پر افسردہ تھا، اس لیے اس نے سوچا کہ کم از کم بھوکے مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے۔
نوجوان نے بتایا کہ جب ڈومینوز کے ڈیلیوری پارٹنر نے فون کر کے پوچھا کہ پیزا کس کے حوالے کیے جائیں، تو اس نے صرف اتنا کہا:
“براہِ کرم یہ پیزا اُن لوگوں کو دے دیجیے جنہوں نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا۔”
ڈیلیوری پارٹنر کا جواب دل کو چھو گیا
نوجوان کے مطابق اس کی بات سن کر ڈیلیوری پارٹنر چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، پھر اس نے کہا
“آپ تو اُن لوگوں کے لیے خدا کی رحمت بن گئے ہیں۔”
نوجوان نے کہا کہ یہ الفاظ اس کے دل کو چھو گئے اور اسے احساس ہوا کہ ایسے حالات صرف احتجاج کرنے والوں ہی نہیں بلکہ معاشرے کے بہت سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔
نوجوان نے 22 جولائی کو جنتر منتر کے پتے پر 150 فارم ہاؤس چیز برسٹ پیزا آرڈر کیے۔
رپورٹس کے مطابق
پیزا کی قیمت تقریباً 64,650 روپے تھی۔
ٹیکس اور دیگر اخراجات کے بعد مجموعی بل 67,734 روپے تک پہنچ گیا۔
“میں تعریف نہیں، دوسروں کو ترغیب دینا چاہتا ہوں”
نوجوان نے واضح کیا کہ اس نے یہ پوسٹ اپنی تعریف کروانے کے لیے نہیں کی بلکہ لوگوں کو یہ پیغام دینے کے لیے شیئر کی کہ اگر کوئی شخص خود کسی جگہ موجود نہ ہو، تب بھی وہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسروں کی مدد کر سکتا ہے۔
اس نے لکھا
“انسانیت کا کوئی بھی چھوٹا قدم کبھی بے معنی نہیں ہوتا۔”
سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی
یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد ہزاروں صارفین نے نوجوان کے جذبے کو سراہا۔ کئی لوگوں نے اسے انسانیت کی خوبصورت مثال قرار دیا، جبکہ بعض نے لکھا کہ ایسے لوگ معاشرے میں امید اور اعتماد کو زندہ رکھتے ہیں۔