پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی غیر قانونی! ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، جانیے مکمل تفصیلات
کرناٹک ہائی کورٹ کی دھارواڑ بینچ (جسٹس سچن شنکر مگدم) نے ایک انتہائی اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان مرد اپنی پہلی شادی کے ہوتے ہوئے ‘خاص شادی کے قانون’ (اسپیکٹرم یا اسپیشل میرج ایکٹ) کے تحت دوسری شادی کرتا ہے، تو وہ دوسری شادی قانوناً باطل (غیر قانونی) تسلیم کی جائے گی۔ عدالت نے وضاحت کی کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا میں ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت ہے، لیکن اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مذہبی قانون کے بجائے ملک کے عمومی اور شہری قانون کے تحت شادی کا انتخاب کرتا ہے، تو اس پر پرسنل لا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا وہی قانون نافذ ہوگا۔
کیس کا پس منظر: یہ معاملہ ایک خاتون کی طرف سے دائر کردہ درخواست کا تھا جس نے دو ہزار آٹھ میں ایک مسلم مرد سے ‘خاص شادی کے قانون’ کے تحت دوسری شادی کی تھی اور ان کی ایک بیٹی بھی تھی۔ دو ہزار چوبیس میں اس شخص کا انتقال ہو گیا۔ شوہر کی جائداد کی تقسیم کا کیس جب عدالت پہنچا تو نچلی عدالت نے خاتون کو اس شخص کی قانونی بیوی ماننے سے انکار کر دیا اور جائداد کے کیس میں شامل نہیں کیا، لیکن ان کی بیٹی کو قانونی وارث تسلیم کر لیا۔
ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ: خاتون نے اس فیصلے کے خلاف بڑی عدالت (ہائی کورٹ) سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو بالکل درست برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ پہلی شادی ختم نہیں ہوئی تھی اور دوسری شادی قانون کے تحت کی گئی تھی، اس لیے دوسری شادی بالکل باطل ہے اور خاتون کو بیوی کا قانونی درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ تاہم، عدالت نے بیٹی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق باطل شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے والد کی جائداد میں وارث بننے کے مکمل حقدار ہیں۔