پرچہ افشا تنازع پر وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور حکومت کا بڑا فیصلہ! جنتر منتر پر جشن کا ماحول، جانیے مکمل تفصیلات
مرکزی کابینہ نے ملک بھر بالخصوص میڈیکل کے داخلہ امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے سال دو ہزار چوبیس کے پرچہ افشا مخالف قانون میں ترمیم کے ایک اہم اور سخت ترمیمی بل کو منظوری دے دی ہے۔ اس نئے مجوزہ قانون میں دھاندلی کرنے والے مجرموں کے لیے قید کی سزا بڑھا کر پانچ سے دس سال اور جرمانہ پچاس لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ امتحانات منعقد کروانے والی کمپنیوں پر پانچ کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ اور اٹھ سال کی پابندی، نیز منظم گروہوں کے لیے سات سال سے زائد کی قید اور دس کروڑ روپے کے جرمانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مقدمات کی تحقیقات اور تیز رفتار سماعت کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو دو ماہ کے اندر چھان بین مکمل کرے گی، اور خصوصی عدالتیں تین ماہ میں کیس کا فیصلہ سنائیں گے۔
دوسری جانب، میڈیکل امتحان کے پرچے افشا ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو ارسال کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تفصیلی خط میں لکھا کہ یہ ان کی انا یا ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک کی نوجوان طاقت کسی گمراہی کا شکار ہو یا ملک مخالف عناصر جنتر منتر کی صورتحال کا غلط فائدہ اٹھائیں۔ وزیر تعلیم کے استعفے کی خبر سامنے آتے ہی کئی دنوں سے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور تنظیموں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن کا ماحول بن گیا۔ اس موقع پر تحریک کے رہنما ابھجیت دیپکے نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “کاکروچ جیت گئے، جمہوریت جیت گئی! دنیا جھکتی ہے، بس جھکانے والا ہونا چاہیے!” تاہم، مظاہرین نے خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ ذہنی تناؤ کی وجہ سے اپنی جان گنوانے والے طلبہ کے خاندانوں کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اپنا مطالبہ بھی برقرار رکھا ہے۔