بریانی کھانا یا غزہ کے حق میں احتجاج کرنا جرم نہیں” — سپریم کورٹ کے جج کا عدلیہ پر اہم تبصرہ
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اُجّل بھویان نے اظہارِ رائے کی آزادی، پُرامن احتجاج اور عدالتی نظام کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اختلافِ رائے ظاہر کرنے کی عوامی جگہ بتدریج محدود ہوتی جا رہی ہے، جبکہ بعض ایسے معاملات میں بھی فوجداری کارروائیاں ہو رہی ہیں جو بظاہر جرم کے دائرے میں نہیں آتے۔
قومی قانونی ادارے میں منعقدہ ایک یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا کہ عدالتیں اگرچہ کئی معاملات میں شہریوں کو ریلیف اور ضمانت دیتی ہیں، لیکن اکثر یہ ریلیف کافی تاخیر سے ملتا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات ضمانت کے ساتھ ایسی سخت شرائط عائد کر دی جاتی ہیں جو شہریوں کو اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے سے بھی ہچکچانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
“مرغی کی بریانی کھانا جرم نہیں”
جسٹس بھویان نے ایک حالیہ مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چند نوجوان رمضان کے روزے افطار کرنے کے لیے دریائے گنگا میں کشتی پر بیٹھ کر مرغی کی بریانی کھا رہے تھے، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ “مرغی کی بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے، اور نہ ہی ایسا کوئی قانون موجود ہے جو دریائے گنگا پر مرغی کھانے سے روکتا ہو۔” ان کے مطابق ایسے افراد کو کئی ماہ تک جیل میں رہنا پڑا، جو عدالتی اور قانونی نظام کے لیے غور طلب معاملہ ہے۔
غزہ کے حق میں احتجاج پر بھی اظہارِ خیال
سپریم کورٹ کے جج نے ایک ایسے مقدمے کا بھی ذکر کیا جس میں غزہ کے حالات کے خلاف احتجاج کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن عدالت نے درخواست مسترد کر دی تھی۔
انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اگر کوئی شہری کسی بین الاقوامی انسانی مسئلے پر پُرامن احتجاج کرنا چاہے تو اس پر سوال کیوں اٹھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے حق میں احتجاج کرنا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں ہے۔
عدلیہ تنقید سے بالاتر نہیں
جسٹس بھویان نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلوں پر علمی اور قانونی تنقید جمہوریت کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق کسی فیصلے پر تنقید کرنے کا مطلب جج کی ذاتی تنقید نہیں ہوتا، بلکہ یہی عمل عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے قانون کے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ عدالتی فیصلوں کا تنقیدی جائزہ لیں، صرف تعریف کرنے تک محدود نہ رہیں۔
عوام کا اعتماد سب سے اہم
خطاب کے اختتام پر جسٹس بھویان نے کہا کہ کسی بھی عدالتی ادارے کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر عدلیہ اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے وقتاً فوقتاً اپنا احتساب اور خود جائزہ لیتے رہنا چاہیے، کیونکہ مضبوط جمہوریت میں آزاد عدلیہ اور کھلی تنقید دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔