ہوائی اڈے کے قیام کی منظوری، تلنگانہ حکومت نے 2,278 کروڑ روپے کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھا
ہوائی اڈے شمالی تلنگانہ کی ترقی کے لیے اہم قدم
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ریاست کے شمالی حصے کی ترقی کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے عادل آباد میں مشترکہ فوجی اور شہری ہوائی اڈے (جوائنٹ یوزر ایئرپورٹ) کے قیام کے لیے 2,278.14 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 2,009.23 ایکڑ اراضی حاصل کی جائے گی، جس سے مستقبل میں شہری فضائی سفر کے ساتھ ساتھ دفاعی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
عادل آباد میں ہوائی اڈے کیوں بنایا جا رہا ہے؟
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (AAI) اور انڈین ایئر فورس (IAF) کے اشتراک سے تیار کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ایک ایسا ہوائی اڈہ قائم کرنا ہے جہاں شہری پروازوں کے ساتھ فوجی طیارے بھی اپنی خدمات انجام دے سکیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس سے شمالی تلنگانہ میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
کتنی زمین حاصل کی جائے گی؟
اس منصوبے کے لیے 2,009.23 ایکڑ اراضی حاصل کی جائے گی۔ اس میں سے 1,609.23 ایکڑ انڈین ایئر فورس کے لیے مختص ہوگی، جبکہ 400 ایکڑ زمین شہری فضائی شعبے، کارگو ٹرمینل، ایم آر او (جہازوں کی مرمت و دیکھ بھال)، ہینگرز اور مستقبل میں توسیع کے لیے رکھی جائے گی۔
بنیادی سہولتوں پر بھی کام ہوگا
حکومت نے واضح کیا ہے کہ منصوبے کے تحت صرف زمین کا حصول ہی نہیں بلکہ دیگر بنیادی سہولتوں کی منتقلی اور تعمیر بھی کی جائے گی۔ اس میں موجودہ سڑکوں کا رخ تبدیل کرنا، 765 کے وی ہائی ٹینشن بجلی لائنوں کی منتقلی، ندی نالوں کے راستے میں ضروری تبدیلیاں، مشن بھاگیرتھا کی پینے کے پانی کی پائپ لائنوں کی منتقلی اور بجلی کے کھمبوں کو ہٹانے جیسے کام شامل ہیں۔
شمالی تلنگانہ کی ترقی کو ملے گا فروغ
ریاستی وزیر کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ عادل آباد کا یہ مشترکہ ہوائی اڈہ شمالی تلنگانہ کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق اس سے صنعتوں، سرمایہ کاری، کارگو ٹرانسپورٹ، سیاحت اور دفاعی شعبے کو نئی رفتار ملے گی۔ اس کے علاوہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
مرکز کے ساتھ رابطہ جاری
وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے لیے ریاستی حکومت مسلسل وزارتِ دفاع، وزارتِ شہری ہوا بازی اور ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ مختلف محکمے مشترکہ طور پر منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ مقررہ وقت میں تمام مراحل مکمل کیے جا سکیں۔
سال کے آخر تک کام مکمل کرنے کی ہدایت
ریاستی حکومت نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ 31 دسمبر تک زمین کے حصول، سڑکوں اور بجلی لائنوں کی منتقلی اور دیگر ضروری بنیادی ڈھانچے سے متعلق تمام کام مکمل کیے جائیں، تاکہ ہوائی اڈے کی تعمیر میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
عوام کے لیے اس منصوبے کی اہمیت
عادل آباد میں جدید ہوائی اڈے کے قیام سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ کارگو سہولتیں بہتر ہونے سے مقامی تجارت کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں شمالی تلنگانہ کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا