آر بی آئی کے پلاسٹک کرنسی نوٹ: کیا بھارت میں دس اور بیس روپے کے نئے نوٹ آ رہے ہیں؟ جانیے مکمل حقیقت
نئی دہلی: بھارت میں کرنسی نوٹوں سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی اس تجویز کو منظوری دے دی ہے، جس کے تحت دس روپے اور بیس روپے کے پولیمر (پلاسٹک) نوٹوں کی آزمائشی بنیاد پر چھپائی اور گردش کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ نئے نوٹ روزمرہ استعمال میں کتنے مؤثر، محفوظ اور پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دس روپے کے ایک ارب اور بیس روپے کے بھی ایک ارب پولیمر نوٹ شائع کیے جائیں گے۔ ان نوٹوں کو مختلف علاقوں میں آزمائشی طور پر گردش میں لایا جائے گا تاکہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اگر نتائج اطمینان بخش رہے تو مستقبل میں ان کا باقاعدہ اجرا کیا جا سکتا ہے۔
البتہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کاغذی نوٹوں کو مکمل طور پر ختم کرنے یا تمام کرنسی کو پلاسٹک نوٹوں سے تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ آزمائشی مرحلے کے دوران پولیمر نوٹ اور موجودہ کاغذی نوٹ ایک ساتھ گردش میں رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق پولیمر نوٹ روایتی کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ پانی، نمی، گردوغبار اور پھٹنے سے بہتر انداز میں محفوظ رہتے ہیں، جس کے باعث ان کی عمر بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت کم پڑتی ہے، جس سے طویل مدت میں اخراجات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
سیکیورٹی کے اعتبار سے بھی پولیمر نوٹ زیادہ جدید سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں شفاف حصے، خصوصی سیکیورٹی فیچرز، باریک پرنٹنگ اور جدید حفاظتی ٹیکنالوجی شامل کی جا سکتی ہے، جس سے جعلی نوٹ تیار کرنا نسبتاً زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
پولیمر نوٹ عام پلاسٹک سے نہیں بنتے بلکہ انہیں بائیکسیلی اورینٹڈ پولی پروپلین نامی خاص مصنوعی مادے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس پر خصوصی روشنائی، حفاظتی تہیں اور جدید سیکیورٹی عناصر شامل کیے جاتے ہیں تاکہ نوٹ محفوظ اور دیرپا رہیں۔
دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی پولیمر کرنسی استعمال کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا اس ٹیکنالوجی کو اپنانے والا پہلا ملک تھا، جبکہ کینیڈا، برطانیہ، نیوزی لینڈ، سنگاپور، ملائیشیا، تھائی لینڈ، میکسیکو، رومانیہ اور ویتنام سمیت متعدد ممالک میں پولیمر نوٹ کامیابی کے ساتھ گردش میں ہیں۔
بین الاقوامی تجربات کے مطابق روایتی کاغذی نوٹ عموماً ڈیڑھ سے دو سال تک قابلِ استعمال رہتے ہیں، جبکہ پولیمر نوٹ پانچ سے ساڑھے سات سال تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ استعمال کے بعد انہیں ری سائیکل کر کے مختلف صنعتی مصنوعات کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اب تمام نظریں آر بی آئی کے آزمائشی مرحلے پر مرکوز ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں بھارت میں مزید مالیت کے پولیمر نوٹ بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔