Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

غیبت کیا ہے
مذہبی 🕌

غیبت کیا ہے؟ خطرناک گناہ سے بچیں

By Editor - Rahbar News
August 8, 2026 5 Min Read
0

غیبت کیا ہے

اسلام نے انسان کی عزت، جان اور مال کے ساتھ ساتھ اس کی عزتِ نفس اور آبرو کی حفاظت پر بھی بہت زور دیا ہے۔ معاشرے میں بہت سے ایسے گناہ ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن انسان کی نیکیوں کو ختم کرنے اور معاشرتی رشتوں کو خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہی گناہوں میں سے ایک غیبت ہے۔ اکثر لوگ دوستوں کی محفل، خاندان کی گفتگو یا عام بات چیت کے دوران کسی شخص کی ایسی بات بیان کر دیتے ہیں جو اسے ناگوار گزر سکتی ہے، اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ غیبت کر رہے ہیں۔

غیبت کسے کہتے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی بہت واضح تعریف بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایسی بات سے کرو جو اسے ناپسند ہو۔

صحابہؓ نے عرض کیا کہ اگر وہ بات واقعی اس شخص میں موجود ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ بات اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
(صحیح مسلم)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیبت صرف جھوٹی بات پھیلانے کا نام نہیں۔ اگر کسی شخص کی کوئی حقیقی خامی بھی اس کی غیر موجودگی میں اس انداز سے بیان کی جائے کہ اسے معلوم ہونے پر برا لگے، تو یہ غیبت میں شامل ہو سکتی ہے۔

قرآن مجید میں غیبت کی سخت مذمت

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں غیبت سے انتہائی سخت انداز میں منع فرمایا ہے۔ سورۂ حجرات میں ارشاد ہوتا ہے:

“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اسے ناپسند کرتے ہو۔”
(سورۃ الحجرات: 12)

یہ مثال انسان کو غیبت کی قباحت سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ جس طرح ایک انسان اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتا، اسی طرح اسے کسی مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرنے سے بھی بچنا چاہیے۔

غیبت صرف زبان سے نہیں ہوتی

بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کوئی بات زبان سے نہیں کہی، اس لیے وہ غیبت سے محفوظ ہے، حالانکہ غیبت مختلف انداز میں ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کے عیب کی طرف اشارہ کرنا، اس کا مذاق اڑانا، کسی کی نقل اتارنا یا ایسے انداز میں بات کرنا جس سے اس کی تحقیر ہو، یہ سب غیبت کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ کسی شخص کے بارے میں نام لے کر یا اشاروں میں منفی بات لکھنا، اس کی نجی زندگی پر تبصرہ کرنا یا اس کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے پھیلانا بھی انتہائی خطرناک عمل ہے۔

غیبت کے نقصانات

غیبت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کے اپنے اعمال اور آخرت کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہے۔ انسان ایک طرف نماز، روزہ، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اپنی زبان سے لوگوں کی عزت کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔

غیبت معاشرے میں بداعتمادی بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک شخص کسی دوست کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں بری باتیں کرتا ہے تو سننے والے کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ یہ شخص کل میرے بارے میں بھی دوسروں سے ایسی ہی باتیں کرے گا۔

اس کے علاوہ غیبت خاندانوں میں اختلاف، دوستوں میں دوری اور رشتوں میں خرابیاں پیدا کر سکتی ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات کئی لوگوں تک پہنچتے پہنچتے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان برسوں پرانے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔

غیبت اور اصلاح میں فرق

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کے بارے میں بات کرنا غیبت نہیں ہوتا۔ بعض شرعی اور حقیقی ضرورتوں کے تحت کسی معاملے کی اطلاع دینا یا مشورہ طلب کرنا الگ معاملہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے ظلم یا نقصان سے کسی دوسرے کو بچانا مقصود ہو، یا کسی جائز ضرورت کے تحت کسی معاملے کی حقیقت معلوم کرنا ہو، تو اس کی نوعیت عام غیبت سے مختلف ہو سکتی ہے۔

لیکن یہاں نیت اور ضرورت بہت اہم ہے۔ صرف کسی کی برائی سنانے، مذاق اڑانے یا دوسروں کے سامنے اپنی بات منوانے کے لیے کسی کا عیب بیان کرنا درست نہیں۔

غیبت سے کیسے بچیں؟

غیبت سے بچنے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنی گفتگو پر نظر رکھنی چاہیے۔ جب کسی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں بات شروع ہو تو خود سے سوال کریں: اگر یہ شخص ہمارے سامنے بیٹھا ہوتا تو کیا میں یہی بات اس کے سامنے بھی کہہ سکتا تھا؟ اگر جواب نہیں ہے تو خاموش رہنا بہتر ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ غیبت والی محفل سے خود کو دور رکھا جائے۔ اگر لوگ کسی کی برائی شروع کر دیں تو موضوع بدلنے کی کوشش کی جائے یا نرمی سے انہیں روک دیا جائے۔ اگر ممکن ہو تو اس شخص کی کوئی اچھی بات بیان کر دی جائے تاکہ گفتگو کا رخ تبدیل ہو جائے۔

اپنی زبان کو ذکر، تلاوت، درود شریف اور اچھی گفتگو میں مصروف رکھنا بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی گفتگو کے بارے میں جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے تو وہ بے مقصد باتوں سے خود بخود بچنے لگتا ہے۔

اگر غیبت ہو جائے تو کیا کریں؟

اگر انسان سے غیبت کا گناہ ہو جائے تو اسے فوراً اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ اس سے بچنے کا عزم کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی جس شخص کی برائی کی گئی ہو، اس کی عزت کو مزید نقصان پہنچانے سے ہر صورت بچنا چاہیے۔

کسی کے بارے میں بری بات ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچانا مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس لیے معاملے کو حکمت کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ اس شخص کے لیے دعا کرنا اور جہاں مناسب ہو اس کی اچھی باتوں کا ذکر کرنا بھی دل کی اصلاح میں مدد دے سکتا ہے۔

آخری بات

غیبت بظاہر چند الفاظ کی گفتگو ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور دوسروں کی عزت کو اپنی عزت کی طرح اہم سمجھے۔ جو بات ہم اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اسے دوسروں کے بارے میں بھی بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔

دنیا کی محفل میں چند لمحوں کی دلچسپ گفتگو کے بدلے اپنی آخرت کو نقصان پہنچانا عقلمندی نہیں۔ اس لیے جب بھی کسی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں بات کرنے کا موقع آئے تو ایک لمحے کے لیے رکیں، سوچیں اور اپنی زبان کو روک لیں۔ یہی احتیاط انسان کو غیبت جیسے گناہ سے بچانے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

مسلمان مایوس نہ ہوں: موجودہ حالات، سیرتِ طیبہ ﷺ اور کامیابی کا راستہ
اپنے دن کو دنیا اور آخرت کے لیے کیسے قیمتی بنائیں؟
📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

اسکرین ٹائم اور نیند: موبائل کی نیلی روشنی آپ کی نیند کیسے خراب کرتی ہے؟

تلنگانہ شہری ترقیاتی منصوبہ
Next

تلنگانہ کا بڑا 4 ہزار کروڑ کا شہری منصوبہ منظور، ورلڈ بینک سے ملیں گے 2,800 کروڑ

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.