تلنگانہ کا بڑا 4 ہزار کروڑ کا شہری منصوبہ منظور، ورلڈ بینک سے ملیں گے 2,800 کروڑ
تلنگانہ شہری ترقیاتی منصوبہ میں کیا ہوگا؟
تلنگانہ شہری ترقیاتی منصوبہ
حیدرآباد: تلنگانہ کے شہری علاقوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت کے محکمہ اقتصادی امور نے ریاست کے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے مالیت کے شہری ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت تلنگانہ حکومت عالمی بینک سے تقریباً 2,800 کروڑ روپے کی مالی معاونت حاصل کرے گی۔
یہ منصوبہ خاص طور پر ریاست کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، عوامی سہولیات میں اضافہ کرنے اور مقامی بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔
تلنگانہ کے 4 ہزار کروڑ روپے کے منصوبے میں کیا ہوگا؟
تلنگانہ حکومت کے محکمہ بلدی نظم و نسق نے اس پروگرام کے تحت دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے کچھ شہری علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبے نافذ کیے جائیں گے۔
منصوبے میں پانی کی فراہمی، سیوریج نظام، بارش کے پانی کی نکاسی، شہری آمدورفت، ماحول دوست شہری منصوبوں اور عوامی مقامات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے شہروں کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات بھی اس پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
عالمی بینک سے 2,800 کروڑ روپے کی مالی معاونت
اس شہری تبدیلی کے پروگرام کی مجموعی تخمینی لاگت تقریباً 430 ملین امریکی ڈالر ہے، جو بھارتی کرنسی میں تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے۔
اس منصوبے کے لیے عالمی بینک سے تقریباً 301 ملین امریکی ڈالر یعنی تقریباً 2,800 کروڑ روپے کی مالی معاونت حاصل کرنے کی تجویز ہے۔
باقی رقم اور منصوبے کی مالی ضروریات کو ریاستی حکومت اور دیگر ذرائع سے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔
پانی، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی میں بہتری
تلنگانہ کے کئی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے شہری علاقوں میں آبادی میں اضافے کے ساتھ بنیادی سہولیات پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں اس منصوبے کا ایک اہم حصہ شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
پروگرام کے تحت پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیوریج کے بنیادی ڈھانچے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ بارش کے موسم میں پانی جمع ہونے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اسٹورم واٹر ڈرینج یعنی بارش کے پانی کی نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی تجویز ہے۔
ان اقدامات کا مقصد شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کو زیادہ مؤثر بنانا اور مستقبل کی شہری ضروریات کے لیے بہتر انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔
شہری آمدورفت اور عوامی مقامات بھی منصوبے کا حصہ
منصوبے میں شہری آمدورفت کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے عوامی مقامات کی ترقی پر توجہ دی جائے گی جو شہریوں کے لیے زیادہ بہتر اور قابلِ استعمال ہوں۔
پروگرام میں ماحول دوست بلیو گرین منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایسے منصوبے شہری ترقی کے ساتھ ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے پر بھی توجہ
تلنگانہ میں شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے نمٹنا بھی شہری منصوبہ بندی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اسی لیے اس پروگرام میں موسمیاتی لچک یعنی شہروں کو شدید بارش، پانی جمع ہونے اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز کے مقابلے کے لیے زیادہ مضبوط بنانے کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے ذریعے شہری بنیادی ڈھانچے کو اس انداز میں بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ وہ مستقبل میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔
بلدیاتی اداروں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کا منصوبہ
تلنگانہ کے شہری ترقیاتی پروگرام کا دائرہ صرف سڑکوں، پانی یا سیوریج تک محدود نہیں ہے۔ اس میں بلدیاتی انتظامیہ اور مالیاتی نظام کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اگلے مرحلے میں شہری مقامی اداروں کو مالی طور پر مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ اپنے ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں وسائل حاصل کر سکیں۔
اس کے علاوہ ایسے منصوبے تیار کرنے پر بھی زور دیا جائے گا جو مارکیٹ سے مالی معاونت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے کی تیاری
اس پروگرام میں شہری انتظامیہ کے نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل گورننس کو بھی وسعت دینے کی تجویز ہے۔
ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شہری خدمات کی فراہمی، بلدیاتی انتظامیہ کے مختلف امور اور شہری منصوبہ بندی کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
یہ اقدام شہری اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے زیادہ منظم اور مؤثر بنانے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔
اربن چیلنج فنڈ اور دیگر منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش
تلنگانہ کے شہری ترقیاتی پروگرام میں شہروں کو مرکزی حکومت کی مختلف شہری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
اس میں اربن چیلنج فنڈ اور سٹی اکنامک ریجن جیسے اقدامات سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنا شامل ہے۔
اس کا مقصد شہری علاقوں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا ہے جو بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو بھی آگے بڑھا سکیں۔
سٹی اکنامک ریجن سے روزگار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا منصوبہ
پروگرام کے اگلے مرحلے میں سٹی اکنامک ریجنز تیار کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے تحت شہری علاقوں اور ان کے آس پاس کے علاقوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
علاقائی رابطے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مخصوص علاقوں کی دوبارہ ترقی اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی پروگرام کا حصہ ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ بہتر شہری بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہونے سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں پر خصوصی توجہ
اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف حیدرآباد جیسے بڑے شہری مرکز کے بجائے ریاست کے دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے منتخب علاقوں کو بھی جدید بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تلنگانہ میں شہری آبادی کے پھیلاؤ کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں میں بھی بنیادی سہولیات کی طلب بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ان شہروں میں پانی، سیوریج، نکاسی آب، آمدورفت اور عوامی مقامات جیسے شعبوں کو بہتر بنانا شہری ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
منصوبے سے تلنگانہ کے شہری علاقوں کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
اگر منصوبہ مجوزہ طریقے کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے تو منتخب شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پانی اور سیوریج کے نظام کی بہتری، بارش کے پانی کی بہتر نکاسی اور شہری آمدورفت میں بہتری براہ راست شہری زندگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اس کے ساتھ بلدیاتی اداروں کی مالی اور انتظامی صلاحیت بڑھنے سے مستقبل میں شہری منصوبوں کو نافذ کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
تلنگانہ میں شہری ترقی کے لیے اہم قدم
ہزار کروڑ روپے کا یہ شہری تبدیلی پروگرام تلنگانہ کے شہری علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، انتظامیہ، ڈیجیٹل گورننس اور معاشی ترقی کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔
عالمی بینک کی مجوزہ 2,800 کروڑ روپے کی مالی معاونت اس پروگرام کے لیے ایک اہم مالی ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کے حقیقی نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ منتخب شہروں میں مختلف منصوبوں کو کس رفتار اور معیار کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے۔
مرکزی منظوری کے بعد اب تلنگانہ کے شہری ترقیاتی پروگرام کے اگلے مراحل میں منصوبوں کی تیاری، مالی انتظام اور منتخب علاقوں میں عملی اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔