سپریم کورٹ کی مسلم معاشرے میں ’تعددِ ازدواج‘ پر پابندی کی درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس
نئی دہلی
عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے مسلمانوں میں ایک سے زائد شادیوں کہ آئین کے خلاف قرار دینے اور اس پر قانونی پابندی عائد کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی ایک نئی آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی والی بینچ نے بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن، سماجی کارکن ذکیہ سومن اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ آئین کی دفعہ 32 کے تحت درخواست پر سماعت کی اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
درخواست میں کی گئی اہم پیش رفت اور مطالبات
تعددِ ازدواج کا مکمل خاتمہ:درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت سے مسلم خواتین کو شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا اس کو مکمل طور پر آئین کے منافی قرار دیا جائے۔
یکساں قانون کا اطلاق:درخواست گزاروں کا مطالبہ ہے کہ بھارتیہ نائے سنہیتا کی دفعہ 82 (جو دوسری شادی کو جرم قرار دیتی ہے) کا اطلاق بغیر کسی مذہبی تفریق کے تمام بھارتی شہریوں پر یکساں طور پر ہونا چاہیے۔
نکاح اور طلاق کا لازمی اندراج (رجسٹریشن):پوشیدہ یا دوسری شادیوں کی روک تھام کے لیے تمام مسلم نکاح اور طلاق کا سرکاری سطح پر اندراج لازمی بنانے کا حکم جاری کیا جائے۔
متاثرہ خواتین کا تحفظ اور مالی امداد:درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ پہلی اور دوسری بیویوں اور بچوں کے فوری رہائشی حقوق اور نفقہ (گزر بسر کے اخراجات) کے لیے ایک باضابطہ فنڈ اور تیز رفتار قانونی طریقہ کار قائم کیا جائے۔
قرآنی تعلیمات اور اصلاحات:درخواست گزاروں کا استدلال ہے کہ دنیا کے متعدد مسلم اکثریتی ممالک نے بھی قانون سازی کے ذریعے ایک سے زائد شادیوں پر پابندیاں یا سخت شرائط عائد کی ہیں اور قرآنی روح کا مقصد بھی ایک وقت میں ایک ہی نکاح کو فروغ دینا ہے۔
اگلا قدم
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے، جس کے بعد اس درخواست کو پہلے سے زیرِ التوا دیگر تمام مشابہ درخواستوں کے ساتھ ملا کر حتمی سماعت کی جائے گی۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔