تلنگانہ کے ضلع ورنگل میں ایک مسلم سرکاری ملازم کو اپارٹمنٹ دینے سے انکار
( تلنگانہ کے ضلع ورنگل میں ایک مسلم سرکاری ملازم کو اپارٹمنٹ دینے سے انکار)
ورنگل: تلنگانہ کے ضلع ورنگل میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ریونیو ڈپارٹمنٹ میں خدمات انجام دینے والے ایک مسلم سرکاری ملازم، ندیم، اور ان کے اہل خانہ کو مذہب کی بنیاد پر اپارٹمنٹ خریدنے سے روک دیا گیا۔
واقعے کی تفصیلا ت:
تعصبانہ رویہ: ندیم اپنے والدین کے ساتھ اپارٹمنٹ میں ایک خالی فلیٹ دیکھنے پہنچے تھے، جس کے مالک سے ان کی بات چیت ہو چکی تھی۔ تاہم، عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک خاتون (جس نے خود کو بھی سرکاری ملازم بتایا) نے ان سے بدتمیزی کی اور صاف کہا کہ “یہاں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے”۔
وائرل ویڈیو اور احتجاج: ندیم نے اس پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔ ویڈیو میں وہ خاتون سے سوال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کیا حکومت کا کوئی ایسا قانون ہے یا سوسائٹی کا، اور اگر مسلمانوں کو فلیٹ نہیں دینا ہے تو باہر بورڈ کیوں نہیں لگا دیتے؟
معاشرتی ذہنیت پر سوال: ندیم نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ایک پبلک سرونٹ ہیں اور بغیر کسی مذہبی تفریق کے تمام لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ تعلیم یافتہ لوگ اور اساتذہ اگر اس قسم کا تعصب رکھیں گے تو آنے والی نسلوں کو کیا پیغام جائے گا۔
انتظامیہ کا ردعمل:
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ورنگل پولیس کمشنر کے دفتر نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی جانچ کی جا رہی ہے اور ویڈیو کو سائبر کرائم پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔