آندھرا پردیش میں تقریباً 45 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج، الیکشن کمیشن نے بحالی کا موقع دے دیا
آندھرا پردیش میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے بعد الیکشن کمیشن نے مسودہ انتخابی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں تقریباً 45 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے ہیں تاہم، ایسے اہل ووٹرز جن کے نام غلطی سے حذف ہو گئے ہیں، ان کے لیے دوبارہ اندراج کا ایک ماہ کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست کی تمام 175 اسمبلی حلقوں کی مسودہ ووٹر فہرست جمعہ کو جاری کی گئی، جس میں 44.89 لاکھ افراد کے نام مختلف وجوہات کی بنیاد پر نکالے گئے۔
چیف الیکٹورل آفیسر وویک یادو نے بتایا کہ خارج کیے گئے ناموں میں 22.30 لاکھ ایسے افراد شامل ہیں جو مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے یا اپنے درج شدہ پتے پر موجود نہیں تھے۔ 15.22 لاکھ نام ایسے ووٹروں کے تھے جن کا انتقال ہو چکا تھا، جبکہ 7.37 لاکھ افراد کے نام ایک سے زائد مقامات پر درج پائے گئے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جن ووٹروں کے نام متعدد مقامات پر درج تھے، ان کا اندراج صرف ایک ہی اہل حلقے میں برقرار رکھا جائے گا۔
خصوصی نظرثانی مہم کے دوران ریاست کے 4.16 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 3,71,38,182 افراد، یعنی 89.22 فیصد نے اپنی معلومات کی تصدیق کے لیے فارم جمع کرایا۔ باقی ووٹرز یا تو مقررہ مدت میں فارم جمع نہیں کرا سکے، اپنے پتے پر موجود نہیں تھے، دوسری ریاستوں میں منتقل ہو چکے تھے یا پھر بطور ووٹر برقرار رہنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔
اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ فہرست میں موجود نہیں ہے تو وہ 31 جولائی سے 30 اگست تک فارم-6 اور مطلوبہ حلف نامہ جمع کر کے اپنے نام کی بحالی کی درخواست دے سکتا ہے۔ تمام درخواستوں کی جانچ کے بعد حتمی ووٹر فہرست جاری کی جائے گی۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حذف کیے گئے ووٹروں کی فہرستیں الیکٹورل رجسٹریشن افسران کے دفاتر، گرام پنچایت، میونسپل دفاتر اور پولنگ اسٹیشنوں پر آویزاں کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ فہرستیں چیف الیکٹورل آفیسر اور متعلقہ ضلعی انتخابی افسران کی ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق دعووں اور اعتراضات کی وصولی 30 اگست تک جاری رہے گی، جبکہ جانچ اور فیصلہ سازی کا عمل 28 ستمبر تک مکمل کیا جائے گا۔ آندھرا پردیش کی حتمی ووٹر فہرست 3 اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔