کیا آپ آٹا کھا رہے ہیں یا پتھر کا پاؤڈر؟ یوپی میں آٹے میں ملاوٹ کا مبینہ انکشاف
اتر پردیش کے کئی اضلاع میں آٹے میں سفید پتھر کے پاؤڈر (ٹالک یا صابن پتھر) کی مبینہ ملاوٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ فلور ملز میں زیادہ منافع کمانے کے لیے آٹے میں پتھر کا باریک پاؤڈر ملایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگرہ، ہاتھرس، ٹنڈلا اور فیروزآباد کی کچھ ملز میں خفیہ طریقے سے تحقیقات کی گئیں، جہاں مبینہ طور پر آٹے میں سفید پاؤڈر ملانے کا عمل دیکھا گیا۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے مزدور بن کر کئی دن تک فلور ملز میں کام کیا اور وہاں کے طریقہ کار کو ریکارڈ کیا۔
رپورٹ میں ایک مل آپریٹر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میں کچھ جگہوں پر آٹے میں تقریباً ۱۰ فیصد تک پاؤڈر ملایا جا رہا ہے، جبکہ زیادہ ملاوٹ کی صورت میں ۱۵ سے ۲۰ فیصد تک کا ذکر کیا گیا۔ اس مبینہ ملاوٹ کا مقصد کم لاگت میں زیادہ منافع حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سفید پتھر کا پاؤڈر عام طور پر کاسمیٹکس، پینٹ، پلاسٹک اور دیگر صنعتی کاموں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اسے کھانے کی چیزوں میں استعمال کرنا محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔
آٹے میں ملاوٹ سے کتنا منافع؟
رپورٹ کے مطابق کچھ مل مالکان نے دعویٰ کیا کہ پتھر کا پاؤڈر ملانے سے فی کلو آٹے پر چند پیسے سے لے کر تقریباً ایک روپے تک اضافی منافع کمایا جا سکتا ہے۔ بڑی مقدار میں پیداوار کرنے والی ملز کو اس سے لاکھوں روپے سالانہ فائدہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرین نے صحت پر تشویش ظاہر کی
رپورٹ میں ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر پتھر کا پاؤڈر جسم میں پہنچے تو یہ نظام ہاضمہ کو متاثر کر سکتا ہے اور طویل عرصے میں صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
آٹے میں ملاوٹ کی پہچان کیسے کریں؟
ماہرین کے مطابق آٹے کی جانچ کے لیے چند گھریلو طریقے آزمائے جا سکتے ہیں:
آٹے میں چند قطرے لیموں کا رس ڈالیں، اگر غیر معمولی جھاگ یا بلبلے بنیں تو ملاوٹ کا شبہ ہو سکتا ہے۔
پانی میں آٹا ڈال کر دیکھیں، بھاری ذرات نیچے بیٹھ جائیں تو ملاوٹ کا امکان ہو سکتا ہے۔
آٹے کو ہاتھ پر رگڑنے سے اگر زیادہ کھردرا پن محسوس ہو تو بھی شک کیا جا سکتا ہے۔
تاہم حتمی تصدیق کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ہی قابل اعتماد طریقہ ہے۔
سرکاری ردعمل کا انتظار
رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ حکام سے جواب لینے کی کوشش کی گئی، تاہم فوری طور پر کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو آٹے کی خریداری میں احتیاط کرنی چاہیے اور معیاری و قابل اعتماد ذرائع سے ہی غذائی اشیا خریدنی چاہئیں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔