حیدرآباد میں چھ لاکھ سے زائد ووٹرز کو مل سکتے ہیں ایس آئی آر نوٹس، تلنگانہ میں چھپن لاکھ نام حذف ہونے کا امکان
( حیدرآباد ایس آئی آر نوٹس )
حیدرآباد: تلنگانہ میں جاری خصوصی ووٹر نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرست کی جانچ میں لاکھوں ووٹرز کی معلومات میں مختلف قسم کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حیدرآباد کے چھ لاکھ سے زائد ووٹرز کو بے ضابطگیوں سے متعلق نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ریاست بھر میں باسٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹرز کی تفصیلات جانچ کے دائرے میں آئی ہیں۔
اس کے علاوہ وہ ووٹرز بھی نوٹس حاصل کر سکتے ہیں جنہوں نے خود کو دو ہزار دو کی ووٹر فہرست سے منسلک نہیں کیا یا جن کی موجودہ معلومات اور پرانی ووٹر فہرست کے درمیان فرق پایا گیا ہے۔
ایس آئی آر کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟
خصوصی ووٹر نظرثانی مہم الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر فہرست کو درست اور اپڈیٹ کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ووٹر فہرست میں موجود غلط اندراجات، ایک سے زیادہ نام، فوت شدہ افراد اور مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو جانے والے ووٹرز کی نشاندہی کرنا ہے۔
اس عمل کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ووٹر فہرست میں صرف اہل اور درست معلومات رکھنے والے افراد شامل رہیں۔
حیدرآباد کے ووٹرز کو نوٹس کیوں مل سکتے ہیں؟
اگرچہ زیادہ تر ووٹرز نے دو ہزار دو کی ووٹر فہرست کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فارم جمع کیے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کے نظام نے کئی معاملات میں تضادات کی نشاندہی کی ہے۔
اہم بے ضابطگیوں میں شامل ہیں:
ووٹر اور والدین کی عمر میں پندرہ سال سے کم فرق ہونا۔
ووٹر اور والدین کی عمر میں پچاس سال سے زیادہ فرق ہونا۔
ووٹر اور دادا یا نانا کی عمر میں چالیس سال سے کم فرق ہونا۔
ایک ہی شخص کے ساتھ چھ یا اس سے زیادہ ووٹرز کا منسلک ہونا۔
بہن بھائیوں کی عمر میں نو ماہ سے کم فرق ظاہر ہونا۔
موجودہ ووٹر فہرست اور دو ہزار دو کی فہرست میں والدین یا رشتہ داروں کے ناموں کی تفصیلات میں فرق ہونا۔
موجودہ اور پرانی فہرست میں رشتے کی قسم تبدیل ہونا، جیسے ایک جگہ والد اور دوسری جگہ شوہر کا نام درج ہونا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر گیارہ قسم کی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر ووٹرز کی جانچ کی جا رہی ہے۔
نوٹس ملنے پر ووٹر کو کیا کرنا ہوگا؟
اگر کسی ووٹر کو ایس آئی آر بے ضابطگی نوٹس ملتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ووٹ فوراً ختم کر دیا جائے گا۔ یہ صرف معلومات کی تصدیق کے لیے جاری کیا جانے والا نوٹس ہوگا۔
ووٹر کو مقررہ وقت کے اندر اپنی شناخت اور رشتے سے متعلق دستاویزات جمع کروا کر اپنی معلومات کی تصدیق کرانی ہوگی۔
ممکنہ دستاویزات میں شامل ہو سکتے ہیں:
شناختی دستاویزات
خاندان سے تعلق ثابت کرنے والے کاغذات
پرانی ووٹر فہرست سے متعلق معلومات
دیگر سرکاری دستاویزات
غیر منسلک ووٹرز کون ہوتے ہیں؟
وہ ووٹرز جو خود کو دو ہزار دو کی ووٹر فہرست میں موجود کسی ووٹر یا خاندان کے رکن سے منسلک نہیں کر سکے، انہیں غیر منسلک زمرے میں رکھا گیا ہے۔
ایسے ووٹرز سے بھی اضافی معلومات یا دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں تاکہ ان کے ریکارڈ کی تصدیق کی جا سکے۔
تلنگانہ میں باسٹھ لاکھ سے زائد ووٹرز نشان زد
رپورٹس کے مطابق تلنگانہ بھر میں باسٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹرز مختلف بے ضابطگیوں کی وجہ سے نشان زد کیے گئے ہیں۔
ضلع وار صورتحال کے مطابق:
ونپرتھی میں سب سے زیادہ تقریباً اٹھائیس فیصد ووٹرز کی معلومات جانچ کے دائرے میں ہیں۔
نظام آباد اور محبوب نگر میں تقریباً ستائیس فیصد ووٹرز کی تفصیلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
چھپن لاکھ ووٹرز کے نام حذف ہونے کا امکان
خصوصی ووٹر نظرثانی مہم کے دوران غیر موجود، منتقل شدہ، ڈپلیکیٹ اور فوت شدہ ووٹرز کے زمرے میں تقریباً چھپن لاکھ ووٹرز کو نشان زد کیا گیا ہے۔
ان میں:
تقریباً چونتیس لاکھ بیس ہزار ووٹرز مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے کے زمرے میں شامل کیے گئے ہیں۔
تقریباً آٹھ لاکھ نوے ہزار ووٹرز کے بارے میں ریکارڈ میں فوت شدہ درج کیا گیا ہے۔
تلنگانہ میں موجودہ ووٹرز کی تعداد تقریباً تین کروڑ اڑتیس لاکھ چھبیس ہزار چار سو اڑتالیس ہے۔ اگر چھپن لاکھ نام حذف کیے جاتے ہیں تو ووٹر فہرست میں سولہ فیصد سے زیادہ کمی آ سکتی ہے۔
حیدرآباد کے کن علاقوں پر زیادہ اثر پڑ سکتا ہے؟
حیدرآباد میں غیر موجود، منتقل شدہ، ڈپلیکیٹ اور فوت شدہ ووٹرز کے زمرے میں کچھ حلقوں میں زیادہ تعداد سامنے آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق:
چندرائن گٹہ حلقے میں تقریباً ایک لاکھ تئیس ہزار ووٹرز اس زمرے میں شامل ہیں، جو تقریباً بتیس فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔
کاروان اور نامپلی حلقوں میں بھی بڑی تعداد میں ووٹرز کی معلومات کی جانچ جاری ہے۔
عوامی شکایات اور خدشات
خصوصی ووٹر نظرثانی مہم کے دوران بعض علاقوں سے شہریوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں فارم نہ ملنے، بوتھ لیول افسران کے گھروں تک نہ پہنچنے یا فارم بھرنے میں مشکلات شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور انہیں مقررہ وقت کے اندر اپنی معلومات درست کروانے کا موقع دیا جائے گا۔
ایس آئی آر مہم کا اگلا مرحلہ
الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق:
دس اگست دو ہزار چھبیس: ابتدائی ووٹر فہرست جاری کی جائے گی۔
دس اگست سے نو ستمبر دو ہزار چھبیس تک: شہری دعوے اور اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔
بارہ اکتوبر دو ہزار چھبیس: تصدیق کے بعد حتمی ووٹر فہرست جاری کی جائے گی۔
اپنا نام ووٹر فہرست میں کیسے چیک کریں؟
ووٹر اپنا نام الیکشن کمیشن کے ووٹر پورٹل کے ذریعے چیک کر سکتے ہیں۔
طریقہ:
ووٹر پورٹل کھولیں۔
اپنا نام، موبائل نمبر یا ووٹر شناختی کارڈ نمبر درج کریں۔
کسی بھی غلطی کی صورت میں متعلقہ بوتھ لیول افسر یا الیکشن دفتر سے رابطہ کریں۔
عام سوالات
سوال: کیا ایس آئی آر نوٹس ملنے سے ووٹ ختم ہو جائے گا؟
جواب: نہیں، نوٹس صرف معلومات کی تصدیق کے لیے ہوتا ہے۔ مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد ریکارڈ درست کیا جا سکتا ہے۔
سوال: حیدرآباد میں کتنے ووٹرز کو نوٹس مل سکتے ہیں؟
جواب: ابتدائی رپورٹس کے مطابق چھ لاکھ سے زائد ووٹرز بے ضابطگیوں کی وجہ سے نوٹس کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
سوال: حتمی ووٹر فہرست کب جاری ہوگی؟
جواب: شیڈول کے مطابق حتمی ووٹر فہرست بارہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو جاری کی جائے گی۔
خلاصہ
تلنگانہ میں خصوصی ووٹر نظرثانی مہم کے دوران لاکھوں ووٹرز کی معلومات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حیدرآباد سمیت پوری ریاست میں جن ووٹرز کے ریکارڈ میں فرق پایا گیا ہے، انہیں تصدیق کے لیے نوٹس مل سکتے ہیں۔
ووٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ریکارڈ کی جانچ کریں، ضروری دستاویزات تیار رکھیں اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق مقررہ وقت میں اپنی معلومات درست کروائیں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔