گردے فیل ہونے کی علامات: نوجوانوں میں بھی بڑھ رہا ہے خطرہ، جانیں وجوہات اور بچاؤ کے طریقے
( گردے فیل ہونے کی علامات )
گردے ہمارے جسم کے انتہائی اہم اعضاء میں شامل ہیں۔ یہ خون کو صاف کرنے، جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے، پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رکھنے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب گردے اپنی کارکردگی صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پاتے تو اس حالت کو گردوں کی کمزوری یا گردے فیل ہونا کہا جاتا ہے۔
عام طور پر گردوں کی بیماری کو عمر رسیدہ افراد سے جوڑا جاتا تھا، لیکن آج کل نوجوانوں میں بھی گردوں کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ خراب غذائی عادات، درد کی دواؤں کا زیادہ استعمال، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور غیر معیاری سپلیمنٹس اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
گردے فیل ہونے کی اہم علامات
جسم میں سوجن آنا
گردے جب اضافی پانی اور نمک جسم سے خارج نہیں کر پاتے تو جسم میں پانی جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے پاؤں، ٹخنوں، ہاتھوں یا آنکھوں کے اردگرد سوجن نظر آ سکتی ہے۔
کمر یا پہلو میں درد
گردوں کے مسائل میں کمر کے نچلے حصے یا پسلیوں کے نیچے دونوں طرف مسلسل ہلکا یا تیز درد محسوس ہو سکتا ہے۔ اگر یہ درد بار بار ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
پیشاب میں تبدیلی
گردوں کی خرابی کی ایک اہم علامت پیشاب میں تبدیلی ہے، جیسے:
پیشاب میں جھاگ آنا
پیشاب میں خون آنا
رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا
پیشاب کی مقدار میں کمی یا اضافہ
پیشاب میں جھاگ اکثر پروٹین کے اخراج کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔
مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری
گردے خراب ہونے کی صورت میں خون میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں اور خون کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت تھکن، کمزوری اور سانس پھولنے جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔
جلد پر شدید خارش
گردے خون سے زہریلے مادے صحیح طرح خارج نہ کر سکیں تو جسم میں ایسے مادے جمع ہو جاتے ہیں جو شدید خارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھوک میں کمی اور معدے کے مسائل
گردوں کی خرابی میں یہ علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں:
بھوک کم لگنا
متلی یا قے
منہ میں دھاتی ذائقہ محسوس ہونا
پٹھوں میں کھنچاؤ
جسم میں کیلشیم اور نمکیات کے توازن میں خرابی کی وجہ سے خاص طور پر رات کے وقت پٹھوں میں درد اور کھچاؤ ہو سکتا ہے۔
نوجوانوں میں گردوں کی بیماری کیوں بڑھ رہی ہے؟
آج کے دور میں گردوں کی بیماری صرف بزرگوں تک محدود نہیں رہی۔ نوجوانوں میں بھی اچانک یا آہستہ آہستہ گردوں کی خرابی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں:
نمک اور فاسٹ فوڈ والی غذا کا زیادہ استعمال
موٹاپا
پانی کم پینا
انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال
ورزش کی کمی
درد کی گولیوں کا غیر ضروری استعمال
خاص طور پر درد کی عام دوائیں جیسے آئبوپروفین اور دیگر سوزش کم کرنے والی دوائیں اگر بار بار اور بغیر مشورے کے استعمال کی جائیں تو گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اسی طرح باڈی بلڈنگ کے لیے استعمال کیے جانے والے غیر معیاری پروٹین سپلیمنٹس اور ہربل مصنوعات بھی بعض اوقات گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
گردے فیل ہونے کی بڑی وجوہات
ذیابیطس
شوگر کی بیماری میں خون میں شکر کی زیادہ مقدار گردوں کے باریک فلٹرز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر
بے قابو بلڈ پریشر گردوں کی خون کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور وقت کے ساتھ گردوں کی کارکردگی کم ہو سکتی ہے۔
گردوں کی اندرونی سوزش
بعض بیماریوں میں گردوں کے فلٹر کرنے والے حصے متاثر ہو جاتے ہیں، جس سے گردوں کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔
موروثی بیماریاں
کچھ لوگوں میں جینیاتی مسائل کی وجہ سے گردوں میں پانی سے بھری تھیلیاں بننے لگتی ہیں جو آہستہ آہستہ گردوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پتھری اور انفیکشن
پیشاب کی نالی میں رکاوٹ، گردے کی پتھری یا بار بار ہونے والے شدید انفیکشن بھی گردوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
نقصان دہ ادویات اور زہریلے مادے
کچھ دوائیں، کیمیکل، بھاری دھاتیں اور غیر معیاری سپلیمنٹس گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیا گردے فیل ہونے کا علاج ممکن ہے؟
گردوں کی بیماری کا علاج اس کے مرحلے اور وجہ پر منحصر ہوتا ہے۔
اگر گردوں کو اچانک نقصان پہنچا ہو اور وجہ کا بروقت علاج کر لیا جائے تو بعض صورتوں میں گردے دوبارہ بہتر کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر گردے مستقل طور پر خراب ہو جائیں تو مکمل صحت یابی ممکن نہیں ہوتی، البتہ علاج کے ذریعے زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ڈائلیسس
ڈائلیسس ایک طبی طریقہ ہے جس میں مشین کے ذریعے خون سے فاضل مادے اور اضافی پانی خارج کیا جاتا ہے، جب گردے یہ کام نہیں کر پاتے۔
گردے کی پیوند کاری
شدید گردے فیل ہونے کی صورت میں بعض مریضوں کے لیے گردے کی پیوند کاری ایک اہم علاج ہو سکتی ہے۔
غذا اور طرز زندگی میں تبدیلی
گردوں کی حفاظت کے لیے:
نمک کم استعمال کریں
بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھیں
شوگر کو قابو میں رکھیں
پانی مناسب مقدار میں پئیں
بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے درد کی دوائیں نہ لیں
صحت مند غذا اختیار کریں
گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے احتیاط ضروری ہے
گردے خاموشی سے کام کرتے رہتے ہیں، اس لیے اکثر بیماری کا پتہ دیر سے چلتا ہے۔ وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر، شوگر اور پیشاب کے ٹیسٹ کروانا گردوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔
اگر جسم میں سوجن، پیشاب میں تبدیلی، مسلسل تھکن یا کمر میں غیر معمولی درد جیسی علامات نظر آئیں تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
گردوں کی حفاظت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، نقصان دہ عادات سے بچیں اور بروقت طبی مشورہ حاصل کریں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔