Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک
صحت 🏥

آج کے نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ عادتیں دل کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں

By Editor - Rahbar News
August 15, 2026 6 Min Read
0

نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ عادتیں دل کے لیے خطرناک ہیں

(Naujawano Mein Heart Attack Kyun Barh Raha Hai? Yeh Aadatein Dil Ke Liye Khatarnak Hain)

ایک وقت تھا جب ہارٹ اٹیک کو زیادہ عمر کے لوگوں کی بیماری سمجھا جاتا تھا، لیکن آج نوجوانوں میں بھی دل کی بیماریوں کے واقعات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ خاص طور پر سگریٹ نوشی، تمباکو، مسلسل ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، موٹاپا، ذیابیطس، کولیسٹرول اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے عوامل کم عمر افراد کے دل کی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

کچھ مطالعات میں کم عمر افراد میں اچانک موت کے واقعات میں دل سے متعلق وجوہات کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔ تاہم ہر اچانک موت کو ہارٹ اٹیک قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس کے پیچھے دل کی دھڑکن کی خرابی، پیدائشی یا موروثی دل کی بیماریاں اور دیگر طبی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کسی ایک وجہ سے نہیں بڑھتا۔ عموماً کئی خطرے والے عوامل ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

آج کے نوجوانوں میں بیٹھے رہنے کا معمول، فاسٹ فوڈ، تمباکو نوشی، مسلسل ذہنی دباؤ اور خراب نیند عام ہوتی جارہی ہے۔ اگر اس کے ساتھ بلڈ پریشر، شوگر یا کولیسٹرول بھی بڑھ جائے تو دل اور خون کی نالیوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

سگریٹ اور تمباکو دل کے لیے بڑا خطرہ

سگریٹ نوشی اور تمباکو کا استعمال دل کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

نکوٹین خون کی نالیوں کو تنگ کرسکتی ہے اور بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں اضافہ کرسکتی ہے۔ تمباکو نوشی خون کی نالیوں کی اندرونی سطح کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، جس سے وقت کے ساتھ خون کی نالیوں میں چکنائی جمع ہونے اور خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ خطرہ صرف سگریٹ تک محدود نہیں۔ تمباکو کی دوسری شکلیں بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ویپنگ کو بھی محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں۔

مسلسل ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی

آج بہت سے نوجوان ملازمت، کاروبار، مالی مسائل، پڑھائی اور ذاتی زندگی کے دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔

طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ جسم میں ایسے ہارمونز کی سطح بڑھا سکتا ہے جو بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور دیگر جسمانی نظاموں کو متاثر کرتے ہیں۔

اسی طرح مسلسل نیند پوری نہ ہونا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ رات دیر تک موبائل استعمال کرنا، بے ترتیب سونے کا معمول اور مسلسل جاگتے رہنا وقت کے ساتھ جسم پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ آپ کی عمر کم ہے۔ دل کی صحت کے لیے نیند اور ذہنی سکون بھی اہم ہیں۔

فاسٹ فوڈ، موٹاپا اور بڑھتا ہوا کولیسٹرول

غیر صحت بخش خوراک بھی نوجوانوں میں دل کے خطرے کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہوسکتی ہے۔

بہت زیادہ تلی ہوئی اشیا، نمک، شکر اور انتہائی پراسیس شدہ کھانے کا استعمال وزن، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کے مسائل سے جڑا ہوسکتا ہے۔

خاص طور پر ایل ڈی ایل یعنی خراب کولیسٹرول زیادہ ہونے کی صورت میں خون کی نالیوں میں چکنائی جمع ہونے کا عمل بڑھ سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نوجوان عمر میں بھی کولیسٹرول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ذیابیطس بھی دل کو متاثر کرسکتی ہے

ذیابیطس صرف شوگر کی بیماری نہیں ہے بلکہ طویل عرصے تک خون میں شوگر زیادہ رہنے سے خون کی نالیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اگر کسی نوجوان کو ذیابیطس، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور زیادہ کولیسٹرول میں سے کئی مسائل ایک ساتھ ہوں تو دل کی بیماری کا مجموعی خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس لیے اگر آپ کم عمر ہیں لیکن وزن زیادہ ہے یا خاندان میں ذیابیطس اور دل کی بیماری کی تاریخ ہے تو اپنی صحت کے بنیادی ٹیسٹوں پر توجہ دینا سمجھداری ہے۔

سارا دن بیٹھے رہنا بھی خطرے کی وجہ بن سکتا ہے

موبائل، کمپیوٹر، ٹی وی اور بیٹھ کر کام کرنے کی وجہ سے جسمانی سرگرمی بہت کم ہوگئی ہے۔

اگر کوئی شخص پورا دن بیٹھا رہے اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی نہ کرے تو وزن بڑھنے، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس لیے ضروری نہیں کہ آپ روزانہ جم ہی جائیں۔

تیز قدموں سے پیدل چلنا، سائیکل چلانا، تیراکی یا دوسری مناسب جسمانی سرگرمی بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

عمومی طور پر بالغ افراد کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک سو پچاس منٹ معتدل جسمانی سرگرمی کی سفارش کی جاتی ہے، لیکن اگر آپ کو پہلے سے کوئی بیماری ہے تو ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

بعض نوجوانوں میں بیماری چھپی ہوئی بھی ہوسکتی ہے

ہر دل کا مسئلہ خراب خوراک یا سگریٹ نوشی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

کچھ نوجوانوں میں پیدائشی یا موروثی دل کی بیماریاں موجود ہوسکتی ہیں جن کا پہلے علم نہیں ہوتا۔ بعض دل کی بیماریاں دل کے پٹھوں یا دل کی دھڑکن کے نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔

کبھی کبھار شدید جسمانی مشقت کے دوران ایسی بیماری پہلی مرتبہ سامنے آتی ہے۔

اگر خاندان میں کم عمری میں اچانک موت، موروثی دل کی بیماری یا شدید دل کی دھڑکن کی خرابی کی تاریخ موجود ہو تو ڈاکٹر سے طبی مشورہ لینا خاص طور پر اہم ہے۔

کورونا کے بعد دل کا خطرہ؟

کورونا کی شدید بیماری کے بعد کچھ افراد میں جسمانی سوزش اور خون جمنے سے متعلق مسائل دیکھے گئے ہیں۔ بعض تحقیق میں کووڈ کے بعد دل اور خون کی نالیوں سے متعلق پیچیدگیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

لیکن ہر نوجوان میں دل کا مسئلہ صرف کورونا کی وجہ سے ہوا، ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔

دل کی بیماری کے کئی ممکنہ عوامل ہوسکتے ہیں، اس لیے کسی مخصوص شخص کی وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے۔

دل کی حفاظت کے لیے آج سے کیا کریں؟

سگریٹ اور تمباکو چھوڑ دیں

اگر آپ سگریٹ، گٹکا، تمباکو یا کسی دوسری شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں تو اسے چھوڑنا دل کی صحت کے لیے سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔

صرف مقدار کم کرنا کافی نہیں؛ مکمل طور پر چھوڑنا زیادہ بہتر ہے۔

بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول چیک کرائیں

صرف عمر کم ہونے کی وجہ سے یہ نہ سمجھیں کہ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول نہیں ہوسکتا۔

اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، خاندان میں دل یا شوگر کی بیماری ہے، آپ تمباکو استعمال کرتے ہیں یا ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہے تو مناسب وقت پر بنیادی طبی معائنہ کرائیں۔

روزانہ جسم کو حرکت دیں

کوشش کریں کہ دن کا زیادہ وقت مسلسل بیٹھ کر نہ گزاریں۔

پیدل چلنا، ورزش، سائیکل یا اپنی پسند کی مناسب جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

اگر آپ کافی عرصے سے ورزش نہیں کررہے تو اچانک بہت سخت ورزش شروع نہ کریں۔

نیند کو نظر انداز نہ کریں

بالغ افراد کے لیے عموماً سات سے نو گھنٹے کی نیند مناسب سمجھی جاتی ہے۔

رات دیر تک موبائل دیکھنے اور بے ترتیب سونے کی عادت کو آہستہ آہستہ بہتر کریں۔

خوراک میں سادگی اختیار کریں

اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، مناسب مقدار میں پروٹین اور صحت بخش چکنائی شامل کریں۔

بہت زیادہ تلی ہوئی چیزیں، میٹھے مشروبات، نمک اور انتہائی پراسیس شدہ کھانے کو محدود کریں۔

ہارٹ اٹیک کی علامات کو نظر انداز نہ کریں

نوجوانوں میں بھی سینے میں دباؤ یا بھاری پن، سانس لینے میں مشکل، ٹھنڈا پسینہ، متلی، چکر، یا درد کا بازو، کندھے، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیلنا ہارٹ اٹیک کی علامات ہوسکتی ہیں۔

ہر سینے کا درد ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا، لیکن نئی، شدید یا غیر معمولی علامات کو صرف گیس یا تھکن سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

ایسی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔

آخر میں ایک اہم بات

نوجوان ہونا دل کی بیماری کے خلاف مکمل ضمانت نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر نوجوان کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ قابلِ تبدیلی خطرے والے عوامل کو قابو میں رکھا جائے۔

سگریٹ اور تمباکو سے دوری، مناسب وزن، متوازن خوراک، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، اچھی نیند، ذہنی دباؤ پر قابو اور بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی مناسب نگرانی دل کو طویل عرصے تک صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دل کی حفاظت بڑھاپے میں شروع کرنے والی چیز نہیں؛ صحت مند عادات جتنی جلد شروع کی جائیں، اتنا ہی بہتر ہے۔

اہم طبی نوٹ

یہ مضمون عمومی طبی معلومات کے لیے ہے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ اگر سینے میں اچانک یا شدید درد، سانس کی شدید تکلیف، بے ہوشی یا ہارٹ اٹیک جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود تشخیص کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کریں۔

Rahbar News WhatsApp Channel
Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
بھارت کرنٹ افیئرز دو ہزار چھبیس
Previous

بھارت کے لیے بڑی خبریں: ایٹمی توانائی، دفاع، معیشت اور عالمی تعلقات میں اہم پیش رفت، مکمل کرنٹ افیئرز

بارہویں یا ڈگری پاس
Next

اسٹینوگرافی کورس: بارہویں یا ڈگری کے بعد سرکاری نوکری، اچھی آمدنی اور بیرون ملک مواقع کا راستہ

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.