مغرب بنگال کا سولہ سالہ لڑکا پانچ سال سے تالاب میں رہنے پر مجبور، پانی سے باہر آتے ہی جسم میں شدید جلن
Pani Mein 5 Saal Guzarne Wala 16 Saal Ka Larka, Jism Jalne Ka Ajeeb Masla Kya Hai?
مغربی بنگال کا سولہ سالہ
مغرب بنگال کے ضلع مرشد آباد کے بیل ڈانگا علاقے سے تعلق رکھنے والا سولہ سالہ اقبال شیخ گزشتہ تقریباً پانچ سال سے ایک انتہائی غیر معمولی زندگی گزار رہا ہے۔ اقبال کے مطابق، جب وہ پانی سے باہر آتا ہے تو اس کے پورے جسم میں شدید جلن شروع ہو جاتی ہے، جبکہ پانی میں رہنے سے اسے نسبتاً سکون محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق، اقبال کئی مرتبہ مسلسل چار سے سات دن تک تالاب کے پانی میں رہ چکا ہے۔ وہ دن اور رات کا بڑا حصہ پانی میں گزارتا ہے اور بعض اوقات کئی دن تک باہر نہیں آتا۔ پانی سے باہر نکلتے ہی جسم میں جلن کی شکایت اسے دوبارہ تالاب میں جانے پر مجبور کرتی ہے۔
اقبال کا جن اور روح سے متعلق دعویٰ
اقبال اپنے اس غیر معمولی تجربے کو ایک ماورائے فطرت قوت سے جوڑتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس پر کسی جن یا روح کا سایہ ہے اور اسی وجہ سے پانی سے باہر آتے ہی اس کا جسم جلنے لگتا ہے۔
تاہم، اس دعوے کی کوئی طبی یا سائنسی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، اقبال کی اس کیفیت کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہو سکی اور اس کے لیے باقاعدہ طبی تشخیص کی ضرورت ہے۔
پانچ سال پانی میں رہنے سے صحت بھی متاثر
طویل عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اقبال کی جسمانی حالت بھی تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے ہاتھوں، پیروں اور جسم کے دیگر حصوں کی جلد سفید اور گلنے لگی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق، اقبال کو اکثر نزلہ اور کھانسی کی شکایت بھی رہتی ہے۔ اس کے باوجود وہ پانی سے باہر زیادہ دیر رہنے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اس کے مطابق باہر آتے ہی جلن بہت بڑھ جاتی ہے۔
تالاب کے کنارے لوگوں کا ہجوم
اقبال کی غیر معمولی زندگی نے اسے علاقے میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ گاؤں کے لوگ اور اسکول کے بچے اسے دیکھنے کے لیے تالاب کے گرد جمع ہوتے ہیں۔
لوگ اسے کھانے کے لیے چیوڑا، بسکٹ اور دیگر ہلکی پھلکی غذائیں بھی دیتے ہیں، جن سے وہ اپنا گزارا کرتا ہے۔ تاہم، ایک بیمار نوجوان کی تکلیف کا مقامی لوگوں کے لیے تماشہ بن جانا بھی تشویش کا باعث ہے۔
خاندان مالی مشکلات کا شکار
رپورٹس کے مطابق، اقبال کے اہل خانہ اسے مقامی بلاک پرائمری ہیلتھ سینٹر لے کر گئے تھے، لیکن خاندان کی مالی مشکلات کے باعث وہ مزید علاج کا انتظام نہیں کر پا رہے ہیں۔
رشتہ داروں اور مقامی افراد کی جانب سے اقبال کو پانی سے باہر نکالنے کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن وہ زیادہ دیر پانی سے باہر رہنے پر تیار نہیں ہوتا۔
کیا یہ کسی نایاب بیماری کی علامت ہوسکتی ہے؟
حالیہ رپورٹس میں اقبال کی علامات کے حوالے سے ایکوا جینک پروریٹس نامی ایک نایاب کیفیت کا امکان بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس حالت میں پانی کے رابطے کے بعد جلد میں شدید خارش، چبھن یا بے چینی محسوس ہو سکتی ہے۔
لیکن اقبال کے معاملے میں ابھی تک اس بیماری کی باقاعدہ تشخیص نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے صرف ان علامات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسے ایکوا جینک پروریٹس ہی ہے۔
اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے ماہرِ جلد، ماہرِ اطفال اور ضرورت پڑنے پر دیگر طبی ماہرین سے مکمل معائنہ ضروری ہوگا۔
جن کا سایہ یا کوئی طبی مسئلہ؟
اقبال اپنی تکلیف کو جن یا روح سے جوڑتا ہے، لیکن اس دعوے کا کوئی طبی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس طرح کی غیر معمولی علامات کی صورت میں سب سے اہم قدم یہ ہے کہ نوجوان کو مناسب طبی معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے۔
پانچ سال تک تقریباً مسلسل پانی میں رہنا خود بھی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ جلد کو مسلسل پانی میں رکھنے سے جلد کی حفاظتی تہہ متاثر ہوسکتی ہے اور انفیکشن سمیت دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اقبال کی کہانی ایک غیر معمولی طبی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس معاملے میں قیاس آرائی یا ماورائے فطرت دعووں کے بجائے مکمل طبی تشخیص ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ پانی سے باہر آتے ہی اس کے جسم میں شدید جلن کی اصل وجہ کیا ہے اور اسے اس تکلیف سے کیسے نجات دلائی جاسکتی ہے۔