تعلیم کے لیے لڑکے کا روپ دھارنے والی افغان خاتون زہرا جویا کی متاثر کن کہان
(زہرا جویا کی کہانی)
دنیا میں کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک فرد کی جدوجہد نہیں بلکہ عزم، حوصلے اور حق کے لیے کھڑے ہونے کی علامت بن جاتی ہیں۔ افغانستان کی معروف صحافی زہرا جویا کی زندگی بھی ایسی ہی ایک مثال ہے، جنہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی شناخت تک چھپانے کا خطرہ مول لیا۔
طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں جب افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیاں عائد تھیں، اس وقت زہرا جویا نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے ان کی پوری زندگی بدل دی۔ انہوں نے تعلیم جاری رکھنے کے لیے لڑکے کا روپ اختیار کیا اور کئی سال تک مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتی رہیں۔
پانچ سال کی عمر میں تعلیم کی جدوجہد کا آغاز
زہرا جویا ابھی صرف پانچ سال کی تھیں جب انہیں احساس ہوا کہ ان کے علاقے میں لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ طالبان کے دور میں لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندیاں تھیں، لیکن پڑھنے کا شوق ان کے دل میں اتنا مضبوط تھا کہ انہوں نے ہار نہیں مانی۔
ان کے چچا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ لڑکوں جیسے کپڑے پہن کر ان کے ساتھ اسکول جائیں۔ اس طرح زہرا نے اپنی شناخت چھپا کر تعلیم حاصل کرنے کا سفر شروع کیا۔
“محمد” بن کر اسکول جانے کا مشکل سفر
زہرا کے لیے یہ راستہ بالکل آسان نہیں تھا۔ انہیں ہر روز کئی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ صبح کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول جاتی تھیں اور پھر واپسی کا سفر بھی پیدل طے کرتی تھیں۔
اسکول میں اپنی شناخت چھپانے کے لیے انہیں لڑکوں جیسا حلیہ اختیار کرنا پڑا۔ اسکول کے سربراہ نے جب کہا کہ لڑکے لمبے بال نہیں رکھتے تو انہیں اپنے بال بھی کٹوانے پڑے۔
اپنی حقیقت چھپانے کے لیے انہوں نے لڑکوں جیسے کھیل کھیلنا اور ان کے انداز اپنانا بھی سیکھا، کیونکہ اگر ان کی شناخت ظاہر ہو جاتی تو ان کے خاندان کے لیے بھی خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔
قانون سے صحافت تک کا سفر
سال ۲۰۰۱ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے راستے دوبارہ کھلنے لگے۔ زہرا جویا نے اپنے والد، جو ایک وکیل تھے، سے متاثر ہو کر ابتدا میں قانون کے شعبے میں جانے کا سوچا تاکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کر سکیں۔
بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ صحافت ایک ایسا طاقتور ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ خواتین کی آواز دنیا تک پہنچا سکتی ہیں۔
سال ۲۰۲۰ء میں انہوں نے رخشانہ میڈیا کے نام سے ایک نیوز ادارہ قائم کیا، جو خاص طور پر افغان خواتین کے مسائل اور کہانیوں کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس ادارے کا نام رخشانہ نامی ایک افغان لڑکی کی یاد میں رکھا گیا تھا جسے ۲۰۱۵ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔
طالبان کی واپسی اور جلاوطنی
اگست ۲۰۲۱ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں حالات ایک بار پھر تبدیل ہو گئے۔ خواتین کے حقوق اور صحافتی آزادیوں کے لیے کام کرنے کی وجہ سے زہرا جویا کو بھی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔
آخرکار انہیں اپنا ملک چھوڑ کر برطانیہ منتقل ہونا پڑا، لیکن انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ آج بھی وہ رخشانہ میڈیا کے ذریعے افغان خواتین کی آواز دنیا تک پہنچا رہی ہیں۔
ایک ایسی کہانی جو حوصلہ دیتی ہے
زہرا جویا کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ علم حاصل کرنے کی خواہش اور حق کے لیے جدوجہد انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔
ایک بچی جس نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی شناخت چھپائی، آج وہ ہزاروں خواتین کی آواز بن چکی ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔