کیا آپ کا پیٹ درد صرف فوڈ پوائزننگ ہے یا گردے کی پتھری؟ جانئے وہ علامات جنہیں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں
جب اچانک پیٹ میں شدید درد شروع ہوتا ہے، متلی محسوس ہوتی ہے یا الٹیاں آنے لگتی ہیں، تو اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید باہر کا کچھ غلط کھانا کھا لیا ہے اور یہ فوڈ پوائزننگ ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بعض اوقات اس شدید درد کی وجہ نظامِ ہاضمہ نہیں بلکہ گردے کی پتھری ہوتی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے کئی مریض پہلے یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں معدے کا مسئلہ ہے، جبکہ اصل میں گردے کی پتھری ان کی پیشاب کی نالی میں منتقل ہو رہی ہوتی ہے۔ چونکہ دونوں بیماریاں ابتدائی طور پر ایک جیسی لگتی ہیں، اس لیے لوگ صحیح تشخیص میں تاخیر کر دیتے ہیں جس سے درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔
گردے کی پتھری فوڈ پوائزننگ کی طرح کیوں محسوس ہوتی ہے؟
منی پال ہسپتال، پونے کے ماہرِ اورولوجی ڈاکٹر بھوپات سنگھ بھاٹی کے مطابق:
“عام طور پر پیٹ کے درد کو معدے کی انفیکشن یا فوڈ پوائزننگ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گردے میں بننے والے معدنیات اور نمکیات کے سخت ذرات (پتھری) جب گردے سے نکل کر پیشاب کی باریک نالی میں منتقل ہوتے ہیں، تو شدید درد اور اینٹھن کا باعث بنتے ہیں۔”
چونکہ پیشاب کی نالی صرف چند ملی میٹر چوڑی ہوتی ہے، اس لیے چھوٹی سے چھوٹی پتھری بھی وہاں پھنس کر پیشاب کا بہاؤ روک دیتی ہے۔ اس ردِعمل کے نتیجے میں جسم میں شدید متلی اور الٹی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جو بالکل فوڈ پوائزننگ جیسی معلوم ہوتی ہے۔
وہ خطرناک علامات جنہیں کبھی نظر انداز نہ کریں
اگرچہ فوڈ پوائزننگ اور گردے کی پتھری دونوں میں الٹی اور متلی ہو سکتی ہے، لیکن گردے کی پتھری کی چند مخصوص علامات یہ ہیں:
پیٹھ یا پہلو میں شدید درد: درد اچانک کمر کی ایک جانب، پسلیوں کے نیچے یا نیچے پیٹ اور رانوں کی طرف پھیلتا ہے۔
درد کی لہریں: یہ درد لہروں کی صورت میں آتا ہے—کچھ منٹ بہت شدید ہوتا ہے اور پھر ہلکا ہو جاتا ہے۔
پیشاب میں جلن اور درد: پیشاب کرتے وقت شدید تکالیف یا جلن محسوس ہونا۔
پیشاب کا رنگ بدلنا: پیشاب کا رنگ گلابی، سرخ یا براؤن ہو جانا (پیشاب میں خون کا آنا)۔
بار بار پیشاب کی حاجت: بار بار پیشاب آنے کا احساس ہونا لیکن بہت کم مقدار میں خارج ہونا۔
بخار اور کپکپی: اگر پتھری کے ساتھ انفیکشن بھی ہو جائے تو تیز بخار اور سردی لگنا۔
اہم فرق: فوڈ پوائزننگ میں درد عام طور پر پیٹ کے وسط میں مروڑ کی شکل میں ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اسہال (دست) کی شکایت لازمی ہوتی ہے، جبکہ گردے کی پتھری میں زیادہ تر پیشاب سے متعلق مسائل اور ایک طرف شدید درد ہوتا ہے۔
فوڈ پوائزننگ اور گردے کی پتھری میں فرق: ایک نظر میں
| علامات / خصوصیات | فوڈ پوائزننگ | گردے کی پتھری |
| درد کا مقام | پورا پیٹ یا ناف کے ارد گرد | کمر کی ایک طرف، پہلو یا نچلا پیٹ |
| درد کی نوعیت | پیٹ میں مروڑ اور مروڑ کے ساتھ دست | اچانک شدید اور لہروں کی شکل میں درد |
| پیشاب کی علامات | معمول کے مطابق | جلن، خون آنا، بار بار حاجت ہونا |
| اسہال (Diarrhea) | بہت عام | عام طور پر نہیں ہوتا |
| باہر کے کھانے کی ہسٹری | موجود ہوتی ہے | ضروری نہیں |
گردے کی پتھری کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
وقت پر درست تشخیص گردے کے مستقل نقصان سے بچا سکتی ہے۔ ڈاکٹر عام طور پر درج ذیل طریقوں سے تشخیص کرتے ہیں:
طبی معائنہ اور ہسٹری: درد کی جگہ اور نوعیت کے بارے میں سوالات۔
پیشاب کا ٹیسٹ: خون یا انفیکشن کی موجودگی چیک کرنے کے لیے۔
خون کا ٹیسٹ: گردوں کی کارکردگی اور نمکیات کا تناسب جانچنے کے لیے۔
الٹراساؤنڈ یا سی ٹی اسکین: پتھری کے سائز، جگہ اور تعداد کی درست معلومات کے لیے۔
گردے کی پتھری کا علاج
پتھری کا علاج اس کے سائز اور جگہ پر منحصر ہوتا ہے:
چھوٹی پتھری: اگر پتھری چھوٹی ہو تو زیادہ پانی پینے، درد کش ادویات اور پیشاب کی نالی کو کشادہ کرنے والی ادویات کے ذریعے یہ خود بخود نکل جاتی ہے۔
یوریٹروسکوپی: اگر پتھری پیشاب کی نالی میں پھنس جائے تو لیزر کے ذریعے پتھری کو توڑ کر نکالا جاتا ہے۔
شاک ویو تھراپی: باہر سے صوتی لہروں کے ذریعے پتھری کو چھوٹے ٹکڑوں میں توڑا جاتا ہے تاکہ وہ پیشاب کے راستے نکل جائے۔
سرجری: بہت بڑی یا پیچیدہ پتھری کے لیے کم سے کم جارحانہ سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
بچاؤ کی تدابیر
اگر آپ کو ایک بار گردے کی پتھری ہو چکی ہے تو دوبارہ ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے:
دن میں کم از کم تین تا چار لیٹر پانی پیئیں۔
کھانے میں نمک کی مقدار کم رکھیں۔
بہت زیادہ الکحل یا کیفین سے پرہیز کریں۔
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق غذائی پرہیز اختیار کریں۔
خلاصہ
پیٹ یا کمر کا ہر درد معمولی فوڈ پوائزننگ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو شدید یکطرفہ درد کے ساتھ پیشاب میں جلن یا خون کا سامنا ہے، تو گھریلو ٹوٹکوں یا ہاضمے کی دوائیوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے فوری طور پر ماہرِ اورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص نہ صرف آپ کو شدید درد سے نجات دلاتی ہے بلکہ گردوں کی صحت کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔