حیدرآباد: ونڈر لا تھیم پارک میں مسلم نوجوانوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا ملازم برطرف، انتظامیہ کا نفرت کے خلاف سخت پیغام
حیدرآباد: تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے مشہور تفریحی مقام ‘ونڈر لا اموزیومنٹ پارک’ سے ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور نفرت انگیز تبصرہ کرنے والے ایک ملازم کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے ذریعے پارک انتظامیہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ تفریح گاہوں میں نفرت اور تعصب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ تفریح کی غرض سے ونڈر لا پارک گیا ہوا تھا۔ وہاں گھومنے کے دوران انہوں نے وہاں موجود ایک آرٹسٹ (انٹرٹینر) سے تصویر کھینچوانے کی خواہش ظاہر کی۔ مذکورہ ملازم نے تصویر کھینچوانے سے صاف انکار کر دیا۔ بعد میں جب وہ نوجوان ایک دوسرے آرٹسٹ کے ساتھ تصویریں لے رہے تھے، تو پہلے والے ملازم نے مسلم برادری کے خلاف انتہائی قابلِ اعتراض اور زہریلے الفاظ استعمال کیے۔
ملازم کی اس نازیبا اور نفرت انگیز حرکت کو وہاں موجود نوجوانوں نے اپنے موبائل کیمرے میں قید کر لیا، جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ عوامی دباؤ اور معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے والے شخص نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کر کے اپنے کیے پر معافی مانگی ہے۔
ا
سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آتے ہی ونڈر لا کی مینجمنٹ نے سخت رخ اختیار کیا اور نفرت پھیلانے والے ملازم کو فوری طور پر نوکری سے نکال دیا۔ سوشل میڈیا صارفین اور شہر کے سنجیدہ شہریوں کی جانب سے ونڈر لا انتظامیہ کے اس فوری فیصلے کی زبردست ستائش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان مسلم نوجوانوں کی بھی تعریف کی جا رہی ہے جنہوں نے اتنی شدید نفرت کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے سمجھداری کا ثبوت دیا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب اور یہاں کا بھائی چارہ کسی بھی قسم کی نفرت انگیز سوچ کو پنپنے کی اجازت نہیں دے گا