خاموش قاتل کا حملہ! ہارٹ اٹیک کی وہ خطرناک قسمیں جو انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیتیں؛ ماہرینِ طب کے چونکا دینے والے انکشافات

صحت و تندرستی ڈیسک: موجودہ دور کے بدلتے طرز زندگی اور بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کی وجہ سے دل کے دورے کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک صرف ایک ہی طرح کا ہوتا ہے، لیکن جدید میڈیکل سائنس اور ماہرین طب کے مطابق دل کا دورہ مختلف اقسام کا ہوتا ہے، جن میں سے کچھ اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ انسان کو اسپتال پہنچنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔
آئیے جانتے ہیں کہ طبی ماہرین نے ہارٹ اٹیک کو کن بڑی اور ہولناک اقسام میں تقسیم کیا ہے اور ان سے بچنا کیوں ضروری ہے:
‘اسٹیمی’ – سب سے ہولناک اور کلاسک اٹیک:
طبی زبان میں اسے ‘ایس ٹی ایلیویشن مائیکارڈیل انفارکشن’ کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون پہنچانے والی شریان میں خون کا لوتھڑا جمنے کی وجہ سے خون کا بہاؤ پوری طرح بند ہو جاتا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک اور شدید دورہ ہوتا ہے جس میں دل کے ایک بڑے حصے کو فوری نقصان پہنچتا ہے۔ دل کی دھڑکن ماپنے والے ٹیسٹ (ای سی جی) میں اس کا پیٹرن بالکل الگ اور واضح نظر آتا ہے۔
‘این اسٹیمی’ – آہستہ نقصان پہنچانے والا اٹیک
اس قسم میں دل کی شریان پوری طرح بند تو نہیں ہوتی، لیکن وہ شدید طور پر سکڑ جاتی ہے جس سے دل تک خون کی سپلائی بہت حد تک کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اسے پہلی قسم سے تھوڑا کم خطرے والا سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی دل کے پٹھوں کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیتا ہے اور اس میں بھی فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
🩺 ڈاکٹروں کے مطابق ہارٹ اٹیک کی پانچ طبی کلاسیفیکیشنز:
ڈاکٹروں نے مریضوں میں ہارٹ اٹیک کی وجوہات کو جاننے کے لیے اسے مزید پانچ حصوں میں بانٹا ہے:
پہلی قسم (اچانک اٹیک): شریانوں میں جمی چربی کے اچانک پھٹ جانے یا خون کا لوتھڑا بننے سے ہونے والا روایتی اٹیک۔
دوسری قسم (آکسیجن کی کمی): جب دل کو اتنی آکسیجن نہیں مل پاتی جتنی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ یہ شدید اینیمیا یعنی خون کی کمی، پھیپھڑوں کی خرابی یا ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
تیسری قسم (اچانک موت): یہ وہ بدقسمت اٹیک ہے جس میں مریض کا بلڈ ٹیسٹ یا کوئی اور معائنہ ہونے سے پہلے ہی اس کی اچانک موت ہو جاتی ہے۔
چوتھی اور پانچویں قسم (سرجری کے دوران): یہ وہ دورے ہیں جو دل کے آپریشن، اینجیو پلاسٹی یا بائی پاس سرجری کے دوران کسی پیچیدگی کی وجہ سے پڑتے ہیں۔
⚠️ ‘سائلنٹ ہارٹ اٹیک’ اور دیگر عجیب اقسام:
سائلنٹ ہارٹ اٹیک: یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں مریض کو سینے میں کوئی شدید درد محسوس ہی نہیں ہوتا۔ معمولی گھبراہٹ یا گیس کا درد سمجھ کر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور بعد میں کسی دوسرے ٹیسٹ میں پتا چلتا ہے کہ دل کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
بروکن ہارٹ سنڈروم: یہ ایک نایاب حالت ہے جس میں شدید جذباتی صدمے، کسی پیارے کے بچھڑنے کے غم یا انتہائی جسمانی تناؤ کی وجہ سے دل کے پٹھے اچانک کمزور ہو جاتے ہیں اور بالکل ہارٹ اٹیک جیسا اثر دکھاتے ہیں۔
کورونری آرٹری اسپاسم: اس میں شریانوں کے اندر اچانک شدید جکڑن پیدا ہوتی ہے جو عارضی طور پر خون کا بہاؤ روک دیتی ہے۔
طبی ماہرین کا مشورہ: اگر آپ کو یا آپ کے آس پاس کسی کو سینے میں شدید درد، جکڑن، سانس لینے میں تکلیف، یا بازو اور جبڑے میں درد محسوس ہو، تو