کیا تاج محل اصل میں شیو مندر تھا؟ الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا اقدام، مرکزی حکومت سے جواب طلب
الہ آباد: ملک کی تاریخی یادگار ‘تاج محل’ کے تعلق سے ایک بار پھر قانونی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم سماعت کے دوران مرکزی حکومت اور آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس عرضی پر اپنا جواب (کاؤنٹر ایفی ڈیوٹ) داخل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس میں تاج محل کا معائنہ کرنے اور اس کی فوٹوگرافی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ میں دائر عرضی کا پس منظر:
ہائی کورٹ کے جسٹس روہت رنجن اگروال نے یہ احکامات ہری شنکر جین اور دیگر عقیدت مندوں کی جانب سے دائر کردہ ایک پٹیشن پر دیے۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ تاج محل کو مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں مقبرہ بنانے سے پہلے، یہ اصل میں ‘تیجو مہالیہ’ نامی ایک ہندو مندر تھا جو بھگوان شیو کے لیے وقف تھا۔ اس سے قبل آگرہ کی ایک سول کورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت نے تاج محل کے اندرونی معائنے اور فوٹوگرافی کے لیے ‘ایڈوکیٹ کمشنر’ مقرر کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جسے اب ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
عرضی گزاروں کا موقف:
درخواست گزاروں کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت میں دلیل دی کہ تاج محل کے اندرونی حصے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات کو زبانی گواہیوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ یہ عمارت اس وقت اے ایس آئی کے کنٹرول میں ہے، اس لیے وہاں کی حقیقت سامنے لانے کے لیے ایک سرکاری کمشنر کے ذریعے مقامی معائنہ، فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے ایودھیا تنازع کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ ہائی کورٹ نے اب اس معاملے پر حکومت اور اے ایس آئی کا موقف جاننے کے لیے نوٹس جاری کر دی ہے۔