تلنگانہ میں کئی سرکاری افسران کے پاس سو کروڑ کی رشوت کے اثاثے، اینٹی کرپشن بیورو نے کیا بڑا پردہ فاش، کچن سے لے کر لاکرز تک سے سونا اور نقد رقم برآمد
تلنگانہ اینٹی کرپشن بیورو نے ریاست کے بڑے سرکاری افسران کے خلاف ایک تاریخی اور اب تک کی سب سے بڑی مہم چلاتے ہوئے کرپٹ بیوروکریٹس کے ایک خفیہ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔ بیورو کی حالیہ کارروائیوں نے ثابت کیا ہے کہ ان اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی سرکاری کرسیوں کا استعمال عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے کیا۔ یہ افسران روایتی طور پر نقد رقم چھپانے کے بجائے رشوت کے پیسوں کو ہائی وے کی قیمتی زمینوں، پوش علاقوں میں پرتعیش ولاز اور رشتہ داروں کے نام پر بینک لاکرز میں سونا رکھنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
اربوں کے اثاثے رکھنے والے بڑے افسران کا کچا چٹھا:
پولیس شعبے کے بڑے عہدیدار: کمپیوٹر سروسز کے ایک اعلیٰ افسر کے خلاف جب الگ الگ مقامات پر چھاپے مارے گئے، تو دوسری ریاستوں تک پھیلی ہوئی پچاس ایکڑ سے زائد زرعی زمین، ایک پرتعیش ولا، دو کلو سونا اور لاکھوں روپے نقد برآمد ہوئے، جس کے بعد ملزم کو چنچل گوڑہ سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اربن پلاننگ کے سابق ڈائریکٹر: شہر کی ترقیاتی اتھارٹی کے ایک سابق ڈائریکٹر نے تو زمینوں کی فائلیں پاس کرنے کے عوض اپنا پورا ریئل اسٹیٹ نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔ ان کے پاس سے دو سو ایکڑ سے زیادہ زمین، قیمتی ولاز، نوٹ گننے والی مشینیں اور دنیا کی مہنگی ترین بین الاقوامی برانڈز کی ساٹھ سے زائد گھڑیاں ضبط کی گئی ہیں۔
روڈ اور بلڈنگ شعبے کے چیف انجینئر: بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کرنے والے اس افسر کے پندرہ ٹھکانوں پر بیک وقت چھاپے مارے گئے، جہاں سے نظام آباد میں کئی ایکڑ زمین، گچی باؤلی اور کومپلی جیسے پوش علاقوں میں سات پرتعیش فلیٹس اور اڑھائی کلو سونا برآمد ہوا۔
واٹر انفراسٹرکچر کے جنرل مینیجر: پانی کی سپلائی کے محکمے میں تعینات ایک مینیجر کے گھر سے ایک کروڑ سے زائد کی نقد رقم، نظام آباد اور سنگاریڈی میں اٹھارہ ایکڑ زمین، چھ رہائشی پلاٹ اور دو کلو سے زیادہ سونا ملا۔
محکمہ مال اور دیگر افسران: لینڈ ریکارڈز کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے صرف ایک بینک لاکر کو توڑنے پر ڈیڑھ کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ اسی طرح محکمہ آبپاشی کے ایک اسسٹنٹ انجینئر اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ایک ڈپٹی کلیکٹر کے پاس سے بھی درجنوں رہائشی پلاٹس، فارم ہاؤسز اور کمرشل دکانیں برآمد کی گئی ہیں۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع اور مزید کارروائیوں کا اشارہ:
اسکینڈل کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو نے اب بجلی اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے افسران کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے۔ ایک اسسٹنٹ انجینئر کے پاس سے پوری انڈسٹریل کیمیکل کمپنی اور ایک خاتون افسر کے لاکر سے ایک کروڑ سے زائد مالیت کے ہیرے اور سونے کے زیورات ملے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ فرانزک ماہرین اور اکاؤنٹنٹس ضبط شدہ دستاویزات اور بے نامی اکاؤنٹس کی تفتیش کر رہے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں مزید کئی بڑے ناموں کے بے نقاب ہونے اور سخت قوانین نافذ کیے جانے کی توقع ہے۔