آندھرا پردیش میں کووڈ سے 2 اموات، 8 نئے مریض سامنے آئے، محکمۂ صحت نے نگرانی سخت کر دی
آندھرا پردیش میں کووڈ کے آٹھ نئے مریض سامنے آنے اور دو افراد کی موت کے بعد محکمۂ صحت نے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ریپڈ ریسپانس ٹیمیں تعینات کر دی ہیں تاکہ مریضوں کے رابطوں کا پتہ لگایا جا سکے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
محکمۂ صحت کے مطابق ضلع وائی ایس آر کڈپہ کے باون سالہ شخص میں بخار اور کھانسی کی علامات ظاہر ہونے کے بعد کووڈ کی تصدیق ہوئی تھی۔ اسی دوران تینتالیس سالہ ایک اور شخص بھی وائرس سے متاثر پایا گیا، تاہم دونوں افراد دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں پہلے سے مختلف سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔
ادھر اڈیشہ حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر آندھرا پردیش سے ملحقہ اضلاع میں نگرانی بڑھا دی ہے۔ اگرچہ ریاست میں فی الحال کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، تاہم سرحدی علاقوں میں اسکریننگ اور طبی نگرانی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سامنے آنے والے کیسز محدود علاقوں تک ہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی بڑی آبادی پہلے انفیکشن اور ویکسینیشن کے باعث بہتر مدافعت رکھتی ہے، اس لیے بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کے امکانات فی الحال کم ہیں۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس، گردوں، جگر، دل یا دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ان میں وائرس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
کووڈ کی عام علامات
بخار
خشک یا مسلسل کھانسی
گلے میں درد
ناک بہنا یا بند ہونا
جسم اور پٹھوں میں درد
شدید تھکن
بعض مریضوں میں دست یا متلی
اگر سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد یا آکسیجن کی سطح کم محسوس ہو تو فوراً قریبی اسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
احتیاطی تدابیر
ہجوم والی جگہوں پر ماسک استعمال کریں۔
صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں یا سینیٹائزر استعمال کریں۔
بخار یا کھانسی کی صورت میں گھر پر رہیں اور دوسروں سے فاصلہ رکھیں۔
بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں کے مریضوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
صحت سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
ماہرین کے مطابق کووڈ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اب یہ ایک ایسی بیماری بن چکا ہے جس کے چھوٹے چھوٹے کیسز وقتاً فوقتاً سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے میں احتیاط، بروقت تشخیص اور ذمہ دارانہ رویہ ہی سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات ہیں۔