کیا بلڈوزر کارروائیاں رک جائیں گی؟ جانیے الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتُل سری دھرن نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود مختلف ریاستوں میں ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسی کارروائیاں اکثر قانون پر عمل درآمد کے بجائے عوامی غصے کو مطمئن کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ قانونی عمل کے بغیر کسی کا گھر نہیں گرایا جا سکتا۔
یہ معاملہ ایک ایسے خاندان کی درخواست پر سامنے آیا جس کا الزام تھا کہ ان کے رشتہ دار کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کیس میں دو ججوں کے درمیان اختلاف بھی سامنے آیا۔ جسٹس اتُل سری دھرن نے تجویز دی کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کم از کم دو سال تک ملزم کے گھر کو منہدم نہ کیا جائے، جبکہ جسٹس سدھارتھ نندن نے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسا مقررہ وقت طے نہیں کر سکتی۔
اختلافی رائے کے باعث اب یہ معاملہ فیصلہ کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے تیسرے جج کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔
اپنے فیصلے میں جسٹس اتُل سری دھرن نے بدعنوانی اور غیر قانونی تعمیرات پر بھی سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف کمزور طبقات پر۔
“اس فیصلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا بلڈوزر کارروائی صرف قانونی طریقہ کار کے بعد ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں، اور مزید مستند خبروں کے لیے رحبر نیوز کو فالو کریں۔”