Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
ہمارے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

صحت 🏥

خبردار! ۱۵ سال سے کم عمر بچوں پر چندی پورا وائرس کا حملہ: عام بخار یا خاموش قاتل؟ جانیے ۴۸ گھنٹوں کے اس نازک وقت کی مکمل حقیقت!

By Editor - Rahbar News
July 25, 2026 2 Min Read
0

چندی پورا وائرس ایک انتہائی مہلک وائرل انفیکشن ہے جو سب سے پہلے ۱۹۶۵ میں مہاراشٹر کے چندی پورا گاؤں میں سامنے آیا تھا۔ یہ وائرس بنیادی طور پر ۱۵ سال سے کم عمر کے بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے اور اعصابی نظام پر حملہ کر کے دماغ کی سوجن کا باعث بنتا ہے۔ حال ہی میں گجرات اور راجستھان میں اس وائرس کے تصدیق شدہ کیسز اور بچوں کی دردناک اموات کے بعد صحت کے اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گجرات میں اب تک متعدد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے ۳ بچوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ راجستھان کے ڈونگرپور اور سیروہی اضلاع سے تعلق رکھنے والی دو معصوم بچیوں کی علاج کے دوران موت کے بعد ان کی رپورٹوں میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے بعد راجستھان کے محکمہ صحت نے گجرات سے متصل سرحدوں اور اضلاع میں سخت نگرانی اور کیڑوں کے خاتمے کی مہم تیز کر دی ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر ریت کی مکھی (سینڈ فلائی)، مچھروں اور کیڑوں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، اور مون سون کے موسم میں نمی، گرمی، کچے مکانات اور جھاڑیوں کے باعث ان کیڑوں کی افزائش میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوتا ہے۔

اس بیماری کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، الٹیاں، سر درد، جسم میں درد اور اسہال شامل ہیں۔ عام وائرل بخار کے مقابلے میں اس کا اثر انتہائی تیز ہوتا ہے۔ اگر انفیکشن شدید ہو جائے تو مریض چند گھنٹوں سے لے کر ۲۴ سے ۴۸ گھنٹوں کے اندر غنودگی، دورے پڑنے، بے ہوشی اور شدید دماغی سوجن کا شکار ہو سکتا ہے۔ فی الحال اس وائرس کو ختم کرنے کے لیے کوئی مخصوص دواء یا ٹیکہ (ویکسین) دستیاب نہیں ہے۔ ہسپتال میں مریض کا علاج صرف اس کی علامات کو کنٹرول کرنے اور جسمانی دیکھ بھال کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس میں بخار کم کرنے کی ادویات، پانی کی کمی دور کرنے کے لیے سیال اشیاء، آکسیجن اور دورے روکنے کی ادویات شامل ہیں۔ شدید حالت میں مریض کو دیکھ بھال کے لیے خصوصی وارڈ میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔ اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ کیڑوں کے کاٹنے سے حفاظت اور صفائی ستھرائی ہے۔ بچوں کو پورے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے پہنائے جائیں، سوتے وقت باریک جالی دار مچھر دانی کا استعمال کیا جائے، اور شام کے وقت انہیں جھاڑیوں یا گندگی کے قریب کھیلنے سے روکا جائے۔ اگر کسی بچے میں تیز بخار کے ساتھ مسلسل الٹیاں، بے ہوشی یا دورے پڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

پرچہ افشا تنازع پر وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور حکومت کا بڑا فیصلہ! جنتر منتر پر جشن کا ماحول، جانیے مکمل تفصیلات

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.