غیبت: وہ گناہ جو نیکیاں بھی ختم کر سکتا ہے! قرآن و حدیث کی روشنی میں اہم نصیحت
ہماری روزمرہ زندگی میں بعض اوقات ایسی باتیں زبان سے نکل جاتی ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھتے ہیں، لیکن اسلام میں وہ بہت بڑا گناہ شمار ہوتی ہیں۔ انہی میں سے ایک غیبت ہے۔ بہت سے لوگ نماز، روزہ اور دیگر عبادات کا اہتمام تو کرتے ہیں، مگر دوسروں کی برائی بیان کرنے سے خود کو نہیں روک پاتے۔
غیبت کیا ہے؟
اللہ کے رسول ﷺ نے غیبت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
“اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو، غیبت ہے۔”
(صحیح مسلم)
اگر وہ بات واقعی اس شخص میں موجود ہو تب بھی اسے اس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے، اور اگر وہ بات اس میں نہ ہو تو یہ بہتان ہے، جو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔
قرآن مجید میں غیبت کے بارے میں کیا فرمایا گیا؟
اللہ تعالیٰ سورۂ حجرات میں ارشاد فرماتے ہیں:
“اور تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔”
(سورۃ الحجرات: 12)
یہ مثال اس بات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ غیبت اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر ناپسندیدہ عمل ہے۔
غیبت کے نقصانات
غیبت صرف ایک گناہ نہیں بلکہ ایسا عمل ہے جو:
دلوں میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتا ہے۔
نیکیوں کو ضائع کر سکتا ہے۔
رشتوں اور دوستیوں کو کمزور کر دیتا ہے۔
آخرت میں سخت جواب دہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کن مواقع پر زبان کو روکنا ضروری ہے؟
آج کل غیبت صرف محفلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ:
واٹس ایپ گروپس
سوشل میڈیا پوسٹس
فیس بک تبصرے
دفتر یا کاروباری گفتگو
رشتہ داروں کی محفلیں
یہ سب جگہیں ایسی ہیں جہاں انسان انجانے میں بھی غیبت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
اگر غیبت ہو جائے تو کیا کریں؟
اگر کسی سے غیبت ہو جائے تو فوراً:
اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کریں۔
آئندہ اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کریں۔
اگر ممکن ہو تو جس شخص کی غیبت کی ہے، اس سے معافی طلب کریں یا اس کے لیے دعا کریں۔
ایک مسلمان کی پہچان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر بات زبان پر لانے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ آیا اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا یا ناراض۔
نتیجہ
غیبت ایک ایسا گناہ ہے جو بظاہر آسان لگتا ہے، لیکن اس کے نتائج دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زبان کی حفاظت کر لیں تو نہ صرف اپنے گناہوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے معاشرے میں محبت، اعتماد اور اخوت کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو غیبت، بہتان اور ہر قسم کی بری گفتگو سے محفوظ رکھے اور ہماری زبان کو ہمیشہ سچ، خیر اور بھلائی کی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔