ااندرامّا ہاؤسنگ اسکیم میں گھر نہ ملنے پر مسلم نوجوان کا انوکھا احتجاج، موبائل ٹاور پر چڑھ گیا
حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع نلگونڈہ میں سرکاری اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکان نہ ملنے پر ایک مسلم نوجوان نے ایسا قدم اٹھایا جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ نوجوان احتجاجاً موبائل ٹاور پر چڑھ گیا اور حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کرنے لگا۔
یہ واقعہ میر یال گوڑہ قصبے میں پیش آیا، جہاں محمد یونس نامی بتیس سالہ پینٹر نے الزام لگایا کہ کئی مرتبہ درخواستیں دینے کے باوجود اسے اب تک سرکاری رہائشی اسکیم کا فائدہ نہیں ملا۔ اس کا کہنا تھا کہ مسلسل نظر انداز کیے جانے کے بعد اس کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔
ٹاور پر موجود محمد یونس نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے تو کم از کم اس کی اہلیہ کو حکومت کی جانب سے مکان فراہم کیا جائے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔ بعد ازاں میر یال گوڑہ کے رکن اسمبلی بی لکشما ریڈی بھی وہاں پہنچے اور محمد یونس سے بات چیت کی۔ رکن اسمبلی نے یقین دلایا کہ ان کا معاملہ حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس یقین دہانی کے بعد محمد یونس نے اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے موبائل ٹاور سے بحفاظت نیچے اترنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد پولیس اور مقامی لوگوں نے راحت کا سانس لیا۔
اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کیا ہے؟
تلنگانہ حکومت کی اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کا مقصد بے گھر اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو پختہ رہائش فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اہل مستحقین کو گھر کی تعمیر کے لیے پانچ لاکھ روپے تک مالی امداد دی جاتی ہے، تاہم درخواست گزاروں کا انتخاب حکومت کی مقررہ شرائط اور جانچ کے بعد کیا جاتا ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔