کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا بڑا الزام، “حکومت نے معاہدہ توڑ دیا”، دوبارہ ملک گیر احتجاج کی دھمکی
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مرکزی حکومت پر اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر طلبہ کی گرفتاریاں، پولیس کی نگرانی اور مبینہ ہراسانی فوری طور پر بند نہ کی گئی تو ملک بھر میں احتجاج کا نیا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صرف دو روز قبل جنتر منتر پر جاری احتجاج حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد عارضی طور پر ختم کر دیا گیا تھا۔ سی جے پی کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے طلبہ کے تمام اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی شامل تھی۔
“معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے”
سی جے پی کے قومی ترجمان آشوتوش رنکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔
ان کے مطابق بہار اور مغربی بنگال میں سیکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں طلبہ رہنماؤں اور منتظمین کی نگرانی اور مبینہ ہراسانی جاری ہے۔
رضاکاروں کی حراست کا بھی دعویٰ
سی جے پی کا کہنا ہے کہ دہلی میں احتجاج کے دوران کھانے، پانی، خیموں اور دیگر انتظامات میں مدد کرنے والے کئی رضاکاروں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے، جس سے حکومت کی یقین دہانیوں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
مرکزی حکومت کے سامنے نئے مطالبات
سی جے پی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
تمام گرفتار طلبہ کو فوری رہا کیا جائے۔
احتجاج سے متعلق درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔
آئندہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف نئے مقدمات درج نہ کیے جائیں۔
حکومت قانونی معاہدے کی تحریری نقل اور اس پر عمل درآمد کا مکمل شیڈول عوام کے سامنے پیش کرے۔
مہلت ختم، پھر ملک گیر احتجاج؟
آشوتوش رنکا نے کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک حکومت نے تحریری معاہدہ فراہم نہ کیا اور مطالبات پر عمل درآمد شروع نہ کیا تو سی جے پی دوبارہ لاکھوں طلبہ کو ملک بھر میں احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کی اپیل کرے گی۔
سرکاری مؤقف کا انتظار
سی جے پی نے اگرچہ حکومت پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگایا ہے، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک مرکزی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔