صرف “میں اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں” کہنا کافی نہیں… جانیں قرآن و حدیث کے مطابق سچی محبت کی اصل نشانیاں۔
اللہ اور رسول ﷺ سے سچی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ لیکن صرف زبان سے “ہم اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں” کہنا کافی نہیں، بلکہ سچی محبت کا ثبوت
اپنے کردار، عبادات اور زندگی کے ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے ملتا ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں واضح طور پر بتاتے ہیں کہ حقیقی محبت کرنے والوں کی کیا نشانیاں ہیں۔
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“کہہ دیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔”
(سورۂ آل عمران: 31)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا ہے۔
نماز کی پابندی کرنے والے
نماز دین کا ستون ہے۔ جو شخص پانچ وقت کی نماز کی حفاظت کرتا ہے اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتا ہے، وہ اللہ سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیتا ہے۔
حلال و حرام کا خیال رکھنے والے
سچی محبت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ روزگار، تجارت، کھانے پینے اور زندگی کے تمام معاملات میں حلال و حرام کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے والے
نبی اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا محبتِ رسول ﷺ کی سب سے واضح علامت ہے۔ کھانے پینے کے آداب، سلام کرنا، سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، حسنِ اخلاق اختیار کرنا اور دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا سب سنتِ نبوی ﷺ کا حصہ ہیں۔
گناہوں سے توبہ کرنے والے
ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اللہ کو وہ بندے بہت محبوب ہیں جو اپنی غلطی پر نادم ہو کر سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
“بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
(سورۂ البقرہ: 222)
لوگوں کے حقوق ادا کرنے والے
صرف عبادت کرنا کافی نہیں، بلکہ والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کرنا بھی ایمان کا اہم حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا ہے۔
اخلاص کے ساتھ نیک عمل کرنے والے
اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی عمل قبول ہوتا ہے جو صرف اس کی رضا کے لیے کیا جائے۔ ریاکاری اور دکھاوے سے کیا گیا عمل اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔
محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی معیار
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ اور رسول ﷺ کا حکم سامنے آجائے تو مسلمان اپنی خواہشات پر اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کو ترجیح دے۔
نتیجہ
اللہ اور رسول ﷺ سے سچی محبت صرف دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ ایمان، اطاعت، نماز، سنت پر عمل، حلال روزی، اچھے اخلاق، لوگوں کے حقوق کی ادائیگی اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال انجام دینے کا نام ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تو یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حقیقی محبت کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنے محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت نصیب فرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔