بچوں پر موبائل فون کے خطرناک اثرات: گیمز، نیند، ذہنی صحت، آن لائن فراڈ اور تصاویر کے غلط استعمال سے کیسے بچائیں؟
( Bachon Par Mobile Phone Ke Asraat: Games, Fraud Aur Zehni Sehat Ke Khatrat )
بچوں پر موبائل فون کے خطرناک اثرات
آج گھروں میں ایک عام منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ بچہ کھانا کھاتے ہوئے موبائل دیکھ رہا ہے، سونے سے پہلے ویڈیوز دیکھ رہا ہے، صبح آنکھ کھلتے ہی فون مانگ رہا ہے اور کھیلنے کے بجائے گھنٹوں اسکرین پر مصروف رہتا ہے۔
شروع میں والدین اسے صرف تفریح سمجھتے ہیں، لیکن اگر موبائل فون کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو مسئلہ صرف آنکھوں تک محدود نہیں رہتا۔ بچوں پر موبائل فون کے اثرات نیند، پڑھائی، توجہ، جسمانی سرگرمی، ذہنی صحت اور سماجی رویے تک پہنچ سکتے ہیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کو آن لائن فراڈ، جعلی گیمز، غیر ضروری خریداری، مشکوک لنکس اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال جیسے خطرات کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔
بچہ موبائل فون کا عادی کیسے ہونے لگتا ہے؟
اکثر موبائل کی عادت ایک چھوٹی سی سہولت سے شروع ہوتی ہے۔ بچہ کھانا نہیں کھا رہا تو موبائل دے دیا، رو رہا ہے تو ویڈیو چلا دی، بور ہو رہا ہے تو گیم کھول دی۔
آہستہ آہستہ بچہ ہر صورتحال میں موبائل کو تفریح اور سکون کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے۔
پھر ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب فون نہ ملنے پر بچہ غصہ کرنے، رونے یا ضد کرنے لگے اور کھیل، کتاب یا خاندان کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی کم ہو جائے۔
گھنٹوں گیم کھیلنے سے بچے کے رویے میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے؟
ہر بچہ جو گیم کھیلتا ہے وہ ذہنی مریض نہیں بنتا، لیکن ضرورت سے زیادہ اور بے قابو گیم کھیلنا بعض بچوں کے رویے اور جذبات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
بچہ گیم ہارنے پر شدید غصہ کر سکتا ہے، فون بند کرنے پر چڑچڑا ہو سکتا ہے یا بار بار دوبارہ گیم کھیلنے کی ضد کر سکتا ہے۔
اگر گیم کی وجہ سے پڑھائی، نیند، کھانا، کھیل کود یا خاندان کے ساتھ تعلق متاثر ہونے لگے تو والدین کو اس عادت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
موبائل گیمز میں پیسے کا خطرہ بھی موجود ہے
کچھ گیمز میں اضافی کردار، سکے، ہتھیار، لباس یا دوسری سہولتیں خریدنے کا اختیار ہوتا ہے۔
اگر بچے کے فون میں والدین کا بینک کارڈ، ادائیگی کا ذریعہ یا محفوظ اکاؤنٹ موجود ہو تو بچہ لاعلمی میں خریداری کر سکتا ہے اور گھر کے اکاؤنٹ سے رقم خرچ ہو سکتی ہے۔
اسی لیے بچوں کے فون میں خریداری کی اجازت، ادائیگی کے طریقے اور پاس ورڈ کو والدین کی نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔
گیم کے نام پر آن لائن فراڈ سے بھی بچائیں
انٹرنیٹ پر ہر گیم، ویب سائٹ یا مفت انعام حقیقی نہیں ہوتا۔
بچوں کو بعض اوقات مفت سکے، مفت کردار، انعام یا گیم میں اضافی طاقت دینے کے نام پر مشکوک لنک پر کلک کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔
ایسے لنکس کے ذریعے صارف سے پاس ورڈ، فون نمبر، شناختی معلومات یا دوسری حساس معلومات مانگی جا سکتی ہیں۔
بچے کو واضح طور پر سمجھائیں کہ کسی اجنبی کو پاس ورڈ، تصدیقی کوڈ یا بینک کی معلومات نہیں دینی۔
ایک غلط لنک فون اور اکاؤنٹ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
بچے اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کون سا لنک محفوظ ہے اور کون سا مشکوک۔
جعلی گیم، مفت انعام، مفت سکے یا کسی مشہور ایپ کے نام سے آنے والا لنک صارف کو جعلی ویب سائٹ یا نقصان دہ ایپ تک لے جا سکتا ہے۔
اس لیے بچے کو سکھائیں کہ وہ والدین کی اجازت کے بغیر کوئی نئی ایپ انسٹال نہ کرے اور کسی اجنبی کے بھیجے ہوئے لنک کو نہ کھولے۔
گھر کی ذاتی تصاویر کا بھی خیال رکھیں
بچوں کے موبائل فون میں اکثر خاندان کی تصاویر، ویڈیوز اور دوسری ذاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔
اگر فون یا کسی آن لائن اکاؤنٹ کی سکیورٹی متاثر ہو جائے تو ان معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ گھر کی ذاتی تصاویر، خواتین کی تصاویر، بچوں کی تصاویر یا خاندان کی نجی ویڈیوز کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہیں کرنی چاہئیں۔
اگر کوئی شخص تصویر مانگے، دھمکی دے یا کسی انعام کے بدلے تصویر بھیجنے کو کہے تو بچے کو فوراً والدین کو بتانا چاہیے۔
نیند سب سے پہلے متاثر ہو سکتی ہے
رات دیر تک موبائل دیکھنے سے بچوں کی نیند کا معمول خراب ہو سکتا ہے۔
اسکرین کی روشنی جسم میں نیند سے متعلق ہارمون کے اخراج کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ گیمز اور مسلسل ویڈیوز بچے کے دماغ کو آرام کے بجائے متحرک رکھ سکتی ہیں۔
نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بچہ اگلے دن تھکا ہوا، چڑچڑا اور پڑھائی پر توجہ دینے میں کمزور محسوس کر سکتا ہے۔
آنکھوں پر موبائل فون کا اثر
بچے جب مسلسل قریب سے موبائل کی اسکرین دیکھتے ہیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آنکھوں میں خشکی، جلن، سر درد اور دھندلا پن جیسی شکایات سامنے آ سکتی ہیں۔ زیادہ قریب سے اسکرین دیکھنے اور زیادہ اسکرین وقت کا بچوں میں قریب کی نظر کمزور ہونے کے خطرے سے بھی تعلق پایا گیا ہے۔
اسی لیے بچے کو بغیر وقفے کے گھنٹوں موبائل دیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
پڑھائی اور توجہ بھی متاثر ہو سکتی ہے
جب بچے کا زیادہ وقت موبائل، ویڈیوز اور گیمز میں گزرنے لگے تو پڑھائی، کتاب، کھیل اور خاندان کے ساتھ گفتگو کے لیے وقت کم ہو جاتا ہے۔
مسلسل بدلتی ہوئی ویڈیوز اور فوری تفریح بچے کو طویل وقت تک ایک ہی کام پر توجہ دینے میں مشکل محسوس کرا سکتی ہے۔
والدین کو یہ دیکھنا چاہیے کہ موبائل استعمال کی وجہ سے بچے کی پڑھائی یا روزمرہ معمول میں واضح تبدیلی تو نہیں آ رہی۔
جسمانی سرگرمی کم ہونے کا خطرہ
موبائل کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے والا بچہ باہر کھیلنے، دوڑنے اور جسمانی سرگرمی میں کم وقت گزار سکتا ہے۔
جسمانی سرگرمی کم ہونے سے وزن بڑھنے اور مجموعی صحت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بچوں کے لیے کھیل کود، پیدل چلنا اور کھلی ہوا میں وقت گزارنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا تعلیم اور تفریح۔
بچے کی ذہنی اور سماجی نشوونما پر اثر
بچپن میں بچے کو والدین سے بات چیت، دوستوں کے ساتھ کھیل، کتابیں اور حقیقی زندگی کے تجربات کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچہ اپنا زیادہ وقت اسکرین کے اندر گزارے تو خاندان سے گفتگو اور حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں اس کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔
کچھ بچوں میں زیادہ اسکرین استعمال چڑچڑاپن، بے چینی، تنہائی اور جذباتی مسائل سے بھی جڑا ہوا پایا گیا ہے۔
والدین بچوں کو موبائل سے کیسے بچائیں؟
موبائل کو مکمل طور پر دشمن سمجھنے کے بجائے اس کے استعمال کے واضح اصول بنائیں۔
بچے کو بتائیں کہ موبائل کب استعمال کرنا ہے، کتنی دیر استعمال کرنا ہے اور کون سا مواد دیکھنا ہے۔
کھانے، پڑھائی اور سونے کے وقت موبائل سے دور رہنے کی عادت ڈالیں۔
بچے کے فون میں یہ حفاظتی اقدامات ضرور کریں
بچے کے موبائل میں خریداری کی اجازت کو محدود رکھیں۔
بینک کارڈ یا ادائیگی کی معلومات کو غیر ضروری طور پر محفوظ نہ رکھیں۔
ایپ صرف معتبر ذرائع سے انسٹال کریں۔
موبائل اور اہم اکاؤنٹس پر مضبوط پاس ورڈ رکھیں۔
جہاں ممکن ہو اضافی حفاظتی تصدیق فعال کریں۔
بچے کو تصدیقی کوڈ، پاس ورڈ اور بینک کی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی تربیت دیں۔
بچے کو صرف فون چھین کر نہیں، متبادل دے کر بچائیں
اگر بچہ پہلے ہی گھنٹوں موبائل دیکھنے کا عادی ہے تو اچانک فون چھین لینا ہمیشہ بہترین طریقہ نہیں ہوتا۔
اس کے بجائے کھیل، کتاب، ڈرائنگ، سائیکل، گھر کے کام میں مدد اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے جیسی سرگرمیوں کو دلچسپ بنائیں۔
مقصد صرف موبائل کم کرنا نہیں بلکہ بچے کی حقیقی زندگی کو دوبارہ دلچسپ بنانا ہے۔
والدین خود بھی مثال بنیں
بچے والدین کی بات سے زیادہ ان کے عمل سے سیکھتے ہیں۔
اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں گے تو بچے کو فون کم استعمال کرنے کی نصیحت زیادہ مؤثر نہیں ہوگی۔
گھر میں کچھ ایسے اوقات مقرر کریں جب والدین اور بچے سب موبائل ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں۔
اگر بچہ مشکوک لنک کھول دے یا فراڈ کا شکار ہو جائے تو کیا کریں؟
سب سے پہلے بچے کو ڈانٹنے کے بجائے اس سے پوچھیں کہ اس نے کیا کیا ہے۔
اگر اس نے پاس ورڈ درج کیا ہے تو فوراً متعلقہ اکاؤنٹ کا پاس ورڈ تبدیل کریں اور اضافی حفاظتی تصدیق فعال کریں۔
اگر بینک یا ادائیگی سے متعلق معلومات دی گئی ہیں تو فوراً بینک یا متعلقہ مالیاتی ادارے سے رابطہ کریں۔
اگر کوئی شخص بچے کو دھمکا رہا ہو یا ذاتی تصاویر کے ذریعے دباؤ ڈال رہا ہو تو ثبوت محفوظ کریں اور معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔ بچے کو خوف کی وجہ سے اکیلے مسئلہ حل کرنے کے لیے مجبور نہ کریں۔
ستمبر دو ہزار چوبیس میں ہمانشو مشرا نامی ایک طالب علم اس وقت خبروں میں آئے جب انہوں نے ایک میڈیا انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ آن لائن گیمنگ اور کرکٹ بیٹنگ ایپس کی وجہ سے انہیں تقریباً چھیانوے لاکھ روپے کا نقصان یا قرض برداشت کرنا پڑا۔ اس واقعے نے نوجوانوں میں آن لائن بیٹنگ اور گیمنگ کی لت کے مالی خطرات پر ملک بھر میں بحث چھیڑ دی۔ تاہم، بعد میں بعض رپورٹس میں اس وائرل دعوے کے کچھ پہلوؤں پر سوالات بھی اٹھائے گئے، اس لیے اس واقعے کو آن لائن گیمنگ کے خطرات کی ایک مثال کے طور پر بیان کرتے ہوئے اسے حتمی طور پر ثابت شدہ معاملہ قرار نہیں دینا چاہیے۔
والدین کے لیے سب سے اہم بات
بچوں پر موبائل فون کے اثرات صرف آنکھوں اور نیند تک محدود نہیں ہیں۔ زیادہ اور بے قابو استعمال سے گیمز کی عادت، پڑھائی میں کمی، جسمانی سرگرمی کا کم ہونا، چڑچڑاپن اور سماجی دوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ آن لائن دنیا میں جعلی گیمز، غیر ضروری خریداری، فراڈ، مشکوک لنکس، اکاؤنٹ چوری اور ذاتی تصاویر کے غلط استعمال جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔
موبائل ٹیکنالوجی سے بچوں کو مکمل طور پر دور کرنا ہر گھر میں ممکن نہیں، لیکن والدین کی نگرانی، واضح حدود، محفوظ انٹرنیٹ استعمال اور کھلی گفتگو بچے کو بہت سے خطرات سے بچا سکتی ہے۔
اگر آپ کے گھر میں بھی بچے موبائل فون یا گیمز زیادہ استعمال کرتے ہیں تو یہ مضمون دوسرے والدین کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔ ممکن ہے آپ کی ایک شیئر کسی دوسرے خاندان کو مالی نقصان، آن لائن فراڈ یا کسی سنگین مسئلے سے بچا دے۔