Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

بھارتی خواتین میں موٹاپا
صحت 🏥

“بھارتی خواتین میں موٹاپے کا خطرناک بڑھتا مسئلہ، ہر تین میں سے ایک خاتون زائد وزن کا شکار”

By Editor - Rahbar News
August 8, 2026 5 Min Read
0

نئی رپورٹ نے بڑھتے وزن پر تشویش بڑھا دی، ماہرین کے مطابق صرف زیادہ کھانا وجہ نہیں؛ نیند، ذہنی دباؤ، ہارمونز اور کم جسمانی سرگرمی بھی اہم عوامل

بھارتی خواتین میں موٹاپا

بھارت میں خواتین کے درمیان زائد وزن اور موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صحت کے ماہرین کی توجہ ایک بار پھر اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرادی ہے۔ تازہ قومی اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سے انچاس سال کی عمر کی تقریباً ہر تین میں سے ایک بھارتی خاتون زائد وزن یا موٹاپے سے متاثر ہے۔

قومی خاندانی صحت سروے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار تئیس سے چوبیس کے دوران اس عمر کی 30.7 فیصد خواتین زائد وزن یا موٹاپے کے زمرے میں آئیں۔ اس سے پہلے دو ہزار انیس سے اکیس کے دوران یہ شرح 24 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چند برسوں کے دوران خواتین میں وزن سے متعلق مسئلہ نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے بڑھتے ہوئے وزن کو صرف خوراک یا ورزش کی کمی سے جوڑنا درست نہیں۔ موجودہ طرز زندگی میں کئی ایسے عوامل شامل ہوگئے ہیں جو جسمانی وزن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مصروف زندگی نے صحت کے لیے وقت کم کردیا

آج بڑی تعداد میں خواتین بیک وقت ملازمت، گھر، بچوں اور خاندان کی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔ صبح جلدی اٹھنے سے لے کر رات دیر تک کام کرتے رہنے تک ان کی مصروفیات ختم نہیں ہوتیں۔

ایسی صورتحال میں باقاعدہ ورزش، وقت پر کھانا اور مناسب آرام اکثر متاثر ہوجاتا ہے۔ کئی خواتین صبح کا ناشتہ چھوڑ دیتی ہیں، کام کے دوران جلدی میں کھانا کھاتی ہیں اور شام کو بھوک لگنے پر چائے، بسکٹ یا نمکین جیسی فوری دستیاب چیزوں کا سہارا لیتی ہیں۔

رات کا کھانا بعض اوقات دن کا سب سے بڑا کھانا بن جاتا ہے۔ اگر یہ معمول طویل عرصے تک جاری رہے تو جسمانی وزن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ذہنی دباؤ بھی وزن پر اثر ڈال سکتا ہے

گھر اور کام کی متعدد ذمہ داریوں کا مسلسل دباؤ خواتین کی جسمانی صحت کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک رہنے والا ذہنی دباؤ جسم میں کورٹیسول جیسے ہارمونز کی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں بعض افراد کو زیادہ بھوک لگ سکتی ہے یا میٹھی اور چکنائی والی غذاؤں کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔ مسلسل دباؤ نیند اور جسمانی سرگرمی کے معمول کو بھی خراب کرسکتا ہے، جس سے وزن پر بالواسطہ اثر پڑتا ہے۔

نیند کی کمی کو معمولی نہ سمجھیں

رات دیر تک کام، موبائل فون کا استعمال اور گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے بہت سی خواتین پوری نیند نہیں لے پاتیں۔

مناسب نیند نہ ملنے سے بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرنے والے جسمانی نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اگلے دن زیادہ کھانے کی خواہش اور جسمانی سرگرمی میں کمی ہوسکتی ہے۔

اسی لیے ماہرین صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے صرف خوراک اور ورزش ہی نہیں بلکہ مناسب نیند کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔

پی سی او ایس سے مینوپاز تک ہارمونز کا اثر

خواتین میں وزن بڑھنے کی وجوہات عمر اور جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔ نوجوان خواتین میں پی سی او ایس ایک اہم مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اس میں ہارمونز کے توازن میں تبدیلی کے ساتھ انسولین کے استعمال سے متعلق مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض خواتین کے لیے وزن کم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ پیری مینوپاز اور مینوپاز کے دوران بھی جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہارمونز کی سطح میں تبدیلی کے ساتھ پٹھوں کی مقدار کم ہوسکتی ہے اور جسم میں چربی خاص طور پر پیٹ اور کمر کے اردگرد زیادہ جمع ہونے لگ سکتی ہے۔

اس لیے اگر کسی خاتون کا وزن اچانک یا مسلسل بڑھ رہا ہو تو صرف کم کھانے کا مشورہ دینے کے بجائے طبی وجوہات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

گھنٹوں بیٹھے رہنے کی عادت بھی خطرناک

موجودہ دور میں دفتر کا کام، آن لائن میٹنگز، خریداری اور تفریح کا بڑا حصہ اسکرین کے ذریعے ہونے لگا ہے۔ اس وجہ سے روزانہ جسمانی حرکت پہلے کے مقابلے میں کم ہوگئی ہے۔

کسی شخص کے لیے دن میں کچھ دیر ورزش کرنا اچھی عادت ہے، لیکن اگر باقی کئی گھنٹے مسلسل بیٹھ کر گزارے جائیں تو جسمانی سرگرمی مجموعی طور پر کم رہ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کام کے دوران وقفے وقفے سے اٹھنا، چند منٹ چلنا، سیڑھیاں استعمال کرنا یا ہلکی اسٹریچنگ کرنا روزمرہ جسمانی سرگرمی بڑھانے کا آسان طریقہ ہوسکتا ہے۔

خود کو ہمیشہ آخر میں رکھنے کی عادت بدلنے کی ضرورت

خواتین اکثر خاندان کے دوسرے افراد کی ضروریات کو اپنی صحت پر ترجیح دیتی ہیں۔ بچوں، شوہر، والدین اور گھر کے دیگر افراد کی دیکھ بھال کے دوران اپنی خوراک، ورزش، نیند اور طبی معائنے کو نظر انداز کرنا معمول بن جاتا ہے۔

لیکن طویل عرصے تک اپنی صحت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ وزن میں اضافے سمیت کئی دیگر مسائل کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے سخت ڈائٹ ضروری نہیں

ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے کے لیے انتہائی سخت ڈائٹ یا فوری نتائج کا وعدہ کرنے والے منصوبوں کے بجائے ایسی عادات اپنانا زیادہ بہتر ہے جنہیں طویل عرصے تک جاری رکھا جاسکے۔

دن کا آغاز پروٹین والی متوازن غذا سے کیا جاسکتا ہے۔ انڈے، پنیر، دال، انکرت شدہ غذائیں، دہی اور بیسن سے بنی غذائیں اس سلسلے میں اچھے انتخاب ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا، کھانے کو غیر ضروری طور پر مؤخر نہ کرنا اور بہت زیادہ بھوک لگنے تک انتظار نہ کرنا بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

ورزش میں طاقت کی مشقیں بھی شامل کریں

صرف وزن کم کرنے کے لیے ورزش کرنے کے بجائے جسم کے پٹھوں کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ طاقت کی ورزشیں پٹھوں کو برقرار رکھنے اور جسمانی فٹنس بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی صحت پر توجہ دینا اہم ہوجاتا ہے۔ تاہم ورزش کا انتخاب عمر، جسمانی حالت اور صحت کے مطابق کرنا چاہیے۔

مسلسل وزن بڑھ رہا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں

اگر کوئی خاتون اپنی خوراک اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دینے کے باوجود مسلسل وزن بڑھتا ہوا محسوس کرے تو اسے صرف اپنی قوت ارادی کی کمی نہیں سمجھنا چاہیے۔

تھائرائڈ، پی سی او ایس، مینوپاز سے متعلق تبدیلیاں اور دیگر طبی عوامل بھی وزن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرکے مناسب طبی جانچ کرانا بہتر ہے۔

خواتین کو الزام نہیں، صحت مند ماحول کی ضرورت ہے

خواتین میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان صحت عامہ کے لیے اہم مسئلہ ہے، کیونکہ زائد وزن ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور فیٹی لیور سمیت کئی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

لیکن اس مسئلے کا حل خواتین کو صرف یہ کہنا نہیں کہ وہ کم کھائیں یا زیادہ ورزش کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی صحت کے لیے وقت، بہتر نیند، ذہنی سکون، جسمانی سرگرمی اور مناسب طبی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو۔

خواتین کے جسم میں عمر کے مختلف مراحل پر قدرتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس لیے وزن کو صرف ظاہری شکل کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے مجموعی صحت کے تناظر میں دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔

صحت مند وزن کا مقصد صرف دبلا نظر آنا نہیں بلکہ ایسا طرز زندگی اپنانا ہے جس میں اچھی خوراک، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون سب کو جگہ ملے۔

اسکرین ٹائم اور نیند: موبائل کی نیلی روشنی آپ کی نیند کیسے خراب کرتی ہے؟
📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
آج کے کرنٹ افیئرز آٹھ اگست دو ہزار چھبیس
Previous

آٹھ اگست دو ہزار چھبیس کے اہم بین الاقوامی کرنٹ افیئرز، سرکاری ملازمت کے امیدواروں کے لیے اہم معلومات

ٹی جی پی ایس سی فاریسٹ بیٹ آفیسر بھرتی 2026
Next

تلنگانہ میں فاریسٹ بیٹ آفیسر کی 1393 آسامیوں پر بھرتی، انٹرمیڈیٹ پاس نوجوانوں کے لیے بڑا موقع

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.