چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور دل میں بے چینی: پڑھئے اس دور کے سچے اور پرسکون لوگ کون ہیں؟
اسلام میں حقیقی سکون کا راز
“اگر آج کے انسان کی زندگی کا خلاصہ کیا جائے تو وہ صرف ایک لفظ ہے—’بے چینی’! صبح سے شام تک کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی جب انسان بستر پر لیٹتا ہے تو دل پر ایک عجیب سا بوجھ ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بے سکون دنیا میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں میں سمندر جیسی گہری خاموشی اور سکون ہے؟”
اللہ کا ذکر کرنے والے (ذاکرین)
اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ دلوں کا سکون صرف اور صرف اس کی یاد میں ہے:
“الَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔)
— سورة الرعد (آیت 28)
جو لوگ ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں، ان کے دل خوف اور گھبراہٹ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
سچا ایمان رکھنے والے اور نیک اعمال کرنے والے
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ”
(جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے خوشخبری (سکون) ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔)
— سورة الرعد (آیت 29)
ایمان اور نیک اعمال انسان کے اندر کے اضطراب کو ختم کر کے ایک اندرونی اطمینان پیدا کرتے ہیں۔
اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے (قناعت پسند)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وہ شخص کامران (کامیاب اور بااطمینان) ہو گیا جو اسلام لایا، جسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو دیا اس پر قناعت کی توفیق دے دی۔”
— صحیح مسلم
جو لوگ خواہشات کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قناعت اختیار کرتے ہیں اور جو ملا اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، وہی دنیا میں حقیقی سکون پاتے ہیں۔
توکل اور صبر کرنے والے
دنیا میں مصائب اور پریشانیاں ہر انسان پر آتی ہیں، لیکن سکون میں وہ رہتے ہیں جو صبر اور توکل کرتے ہیں:
“وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ”
(اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔)
— سورة آل عمران (آیت 186)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے! اس کے ہر کام میں خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہے؛ اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔”
— صحیح مسلم
گناہوں سے بچنے والے اور توبہ کرنے والے
گناہ انسان کے دل کو بوجھل اور بے چین کر دیتا ہے، جبکہ توبہ اور پاکیزگی دل کو ہلکا اور پرسکون کرتی ہے۔
نبی کریم ﷺ سے جب نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے سینے میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو۔”
— صحیح مسلم
جو لوگ اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرتے ہیں اور پاکیزہ زندگی گزارتے ہیں، ان کے دل بے چینی اور خوف سے محفوظ رہتے ہیں۔
خلاصہ
دنیا میں سب سے زیادہ سکون میں وہ شخص ہے:
جس کے دل میں اللہ کی یاد ہو۔
جو حلال رزق پر راضی ہو۔
جو مشکلات پر صبر اور نعمتوں پر شکر کرے۔
اور جس کا دامن گناہوں اور لوگوں کی اذیت سے پاک ہو۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔