Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

صحت 🏥

تھائرائیڈ کی بیماری کا خطرہ مردوں کے مقابلے خواتین میں کئی گنا زیادہ، علامات، وجوہات اور بچاؤ کے اہم طریقے

By Editor - Rahbar News
July 28, 2026 3 Min Read
0

تھائرائیڈ ایک چھوٹا مگر انتہائی اہم غدود ہے جو گردن کے اگلے حصے میں موجود ہوتا ہے۔ یہ جسم میں ایسے ہارمونز پیدا کرتا ہے جو میٹابولزم، توانائی، دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت، وزن اور کئی دیگر اہم افعال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر یہ غدود معمول سے کم یا زیادہ کام کرنے لگے تو جسم میں مختلف طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکن تھائرائیڈ ایسوسی ایشن کے مطابق خواتین میں تھائرائیڈ کی بیماری ہونے کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں پانچ سے آٹھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر آٹھ میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر تھائرائیڈ کے مرض کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ مردوں میں اس بیماری کی شرح کافی کم دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق خواتین میں تھائرائیڈ کے مسائل زیادہ ہونے کی ایک بڑی وجہ جسم میں ہارمونز کی بار بار تبدیلی ہے۔ بلوغت، حمل، بچے کی پیدائش کے بعد کا عرصہ اور سنِ یاس (مینوپاز) ایسے مراحل ہیں جن میں ایسٹروجن کی سطح میں نمایاں تبدیلی آتی ہے، جو تھائرائیڈ کے کام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماریاں بھی نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہیں، جن میں جسم کا مدافعتی نظام اپنے ہی تھائرائیڈ غدود پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔

تھائرائیڈ کی بیماری کی ایک اور اہم وجہ موروثی رجحان بھی ہے۔ اگر خاندان میں کسی فرد کو تھائرائیڈ یا آٹو امیون بیماری ہو تو دیگر افراد میں بھی اس بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں آئیوڈین، سیلینیم اور زنک جیسے ضروری غذائی اجزاء کی کمی، مسلسل ذہنی دباؤ اور بعض اوقات دیگر طبی مسائل بھی تھائرائیڈ کی خرابی کا سبب بن سکتے ہیں۔

جب تھائرائیڈ غدود کم ہارمون پیدا کرتا ہے تو اسے ہائپو تھائرائیڈزم کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ مریض ہر وقت تھکن محسوس کرتا ہے، بغیر زیادہ کھائے وزن بڑھنے لگتا ہے، سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے، یادداشت کمزور ہو سکتی ہے، جلد خشک ہونے لگتی ہے، بال جھڑنے لگتے ہیں اور قبض کی شکایت بھی عام ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس اگر تھائرائیڈ ضرورت سے زیادہ ہارمون بنانے لگے تو اسے ہائپر تھائرائیڈزم کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے، بے چینی، گھبراہٹ، ہاتھوں میں کپکپی، زیادہ پسینہ آنا، نیند نہ آنا اور زیادہ بھوک کے باوجود وزن میں تیزی سے کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تھائرائیڈ کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے کئی افراد برسوں تک دوسری بیماریوں کا علاج کراتے رہتے ہیں۔ خواتین میں اس کی علامات کو اکثر عام تھکن، ذہنی دباؤ یا سنِ یاس سے جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ مردوں میں چونکہ یہ بیماری کم پائی جاتی ہے، اس لیے اس کی جانچ نسبتاً دیر سے کی جاتی ہے۔

تھائرائیڈ کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر عام طور پر ٹی ایس ایچ، فری ٹی تھری اور فری ٹی فور خون کے ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ انہی رپورٹس کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ تھائرائیڈ معمول سے کم کام کر رہا ہے یا زیادہ، اور اسی کے مطابق علاج شروع کیا جاتا ہے۔

اگر تھائرائیڈ کمزور ہو تو مریض کو روزانہ ہارمون کی دوا دی جاتی ہے تاکہ جسم میں ہارمون کی کمی پوری ہو سکے۔ جبکہ زیادہ فعال تھائرائیڈ کی صورت میں ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ہارمون کی پیداوار کو کم کریں۔ بعض پیچیدہ صورتوں میں ڈاکٹر دیگر علاج بھی تجویز کر سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دواؤں کے ساتھ متوازن غذا، مناسب مقدار میں آئیوڈین، سیلینیم اور زنک کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی اور روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند تھائرائیڈ کو بہتر انداز میں قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح بند گوبھی، بروکلی اور شلجم جیسی سبزیوں کو اگر پکاکر کھایا جائے تو یہ زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جنہیں کمزور تھائرائیڈ کا مسئلہ ہو۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو مسلسل تھکن، وزن میں غیر معمولی تبدیلی، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، بالوں کا زیادہ جھڑنا یا گردن میں سوجن جیسی علامات محسوس ہوں تو خود علاج کرنے کے بجائے جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔

📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

تلنگانہ میں بدعنوانی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، صرف تین ماہ میں اے سی بی نے سڑسٹھ مقدمات درج کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.