اتراکھنڈ کے نوجوان نے بنا دی اڑنے والی گاڑی، 40 کلومیٹر کا سفر 10 سے 15 منٹ میں مکمل کرنے کا دعویٰ
روی تمتا کی اڑنے والی گاڑی ہپیڈا اسکائی نیکس‘‘ کامیاب آزمائشی پرواز کے بعد خبروں میں آگیا
روی تمتا کی اڑنے والی گاڑی
اتراکھنڈ کے المورا ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوان اختراع کار روی تمتا نے اپنی تیار کردہ بجلی سے چلنے والی فضائی گاڑی کے نمونے کی کامیاب آزمائشی پرواز کرکے توجہ حاصل کی ہے۔ المورا کے گاؤں کافلی خان سے تعلق رکھنے والے روی تمتا نے اس ایک نشست والی گاڑی کو ہپیڈا اسکائی نیکس کا نام دیا ہے۔
یہ منصوبہ ان کی کمپنی ہپیڈا اسکائی پرائیویٹ لمیٹڈ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی آزمائشی پرواز کے بعد اس گاڑی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں، جس کے بعد ملک بھر میں اس اختراع پر بحث شروع ہوگئی۔
ڈرون ٹیکنالوجی میں تبدیلی کرکے تیار کی گئی گاڑی
ہپیڈا اسکائی نیکس روایتی کار یا عام طیارے سے مختلف ہے۔ اسے متعدد گھومنے والے پنکھوں والے ایک ایسے ڈھانچے پر تیار کیا گیا ہے جو بنیادی طور پر ڈرون ٹیکنالوجی سے متاثر ہے۔
روی تمتا کے مطابق اس منصوبے کو تیار کرنے کے دوران موجودہ ڈرون ٹیکنالوجی میں مسلسل تجربات اور تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ایک ایسے نمونے کو تیار کیا جاسکے جو انسان کو اپنے ساتھ لے کر فضا میں اٹھ سکے۔
اس منصوبے کے پیچھے مقامی وسائل اور محدود سہولیات کے ساتھ مسلسل تجربات کرنے کا کردار بھی اہم رہا۔ اسی وجہ سے اس کوشش کو عام طور پر مقامی اختراع اور ’’دیسی جُگاڑ‘‘ کی مثال کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
بجلی سے چلنے والی فضائی گاڑی
ہپیڈا اسکائی نیکس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ بجلی سے چلنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس طرح اسے روایتی ایندھن استعمال کرنے والے طیاروں سے مختلف تصور کیا جارہا ہے۔
برقی توانائی سے چلنے والی فضائی نقل و حرکت پر دنیا بھر میں تحقیق ہورہی ہے، کیونکہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی شہری سفر، دور دراز علاقوں تک رسائی اور ہنگامی خدمات کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم ہپیڈا اسکائی نیکس ابھی ابتدائی نمونے کے مرحلے میں ہے۔ اس لیے اسے فی الحال عام لوگوں کے استعمال کے لیے دستیاب تجارتی فضائی گاڑی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پہاڑی علاقوں میں سفر کا مسئلہ حل کرنے کا خیال
روی تمتا کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے ان کے اپنے علاقے کا ایک عملی مسئلہ بھی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکیں اکثر گھومتی ہوئی اور دشوار گزار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے نسبتاً کم فاصلے کا سفر بھی کافی وقت لے سکتا ہے۔
ان کے مطابق ان کے گاؤں اور گھر کے درمیان تقریباً 40 کلومیٹر کا فاصلہ سڑک کے ذریعے طے کرنے میں بعض اوقات 90 منٹ تک لگ جاتے ہیں۔
روی تمتا کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی ذاتی فضائی گاڑی مستقبل میں مکمل طور پر محفوظ اور قابل استعمال شکل اختیار کرلے تو یہی فاصلہ تقریباً 10 سے 15 منٹ میں طے کیا جاسکتا ہے۔
یہ خیال خاص طور پر ایسے پہاڑی علاقوں کے لیے اہم ہوسکتا ہے جہاں خراب سڑکوں، لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر رکاوٹوں کے باعث زمینی رابطہ متاثر ہوجاتا ہے۔
ہنگامی حالات میں بھی استعمال کی امید
ایسی فضائی ٹیکنالوجی کا مقصد صرف عام سفر تک محدود نہیں ہوسکتا۔ اگر مستقبل میں اس قسم کی گاڑیوں کو ضروری تکنیکی اور قانونی منظوری حاصل ہوجاتی ہے تو دور دراز علاقوں تک طبی امداد پہنچانے، ہنگامی حالات میں رسائی بہتر بنانے اور سڑکوں سے کٹے ہوئے علاقوں تک پہنچنے میں بھی ان کا استعمال ممکن ہوسکتا ہے۔
خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ یا شدید موسم کے دوران سڑکیں بند ہونے کی صورت میں متبادل فضائی رابطہ اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم یہ امکانات فی الحال مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں اور ہپیڈا اسکائی نیکس کو ان مقاصد کے لیے باقاعدہ طور پر استعمال کیے جانے سے پہلے کئی تکنیکی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔
آزمائشی پرواز کے بعد ملک بھر میں چرچا
المورا میں کھلے مقام پر آزمائشی پرواز کے بعد ہپیڈا اسکائی نیکس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ ویڈیوز میں گاڑی کے زمین سے بلند ہونے کا منظر دیکھا گیا، جس کے بعد لوگوں کی دلچسپی اس منصوبے میں مزید بڑھ گئی۔
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی روی تمتا کی کوشش کو سراہا اور نوجوانوں کے سائنسی رجحان اور اختراع کی تعریف کی۔
مرکزی شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو کنجاراپو نے بھی اس کوشش کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صلاحیت کسی خاص جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں ہوتی۔
ابھی کئی مراحل باقی ہیں
ہپیڈا اسکائی نیکس کی آزمائشی پرواز ایک اہم ابتدائی کامیابی ضرور ہے، لیکن اسے تجارتی طور پر استعمال ہونے والی اڑنے والی گاڑی سمجھنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
ایسی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے پہلے اس کی پرواز، حفاظت، توانائی کے نظام، مسافروں کے تحفظ، کنٹرول سسٹم اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کی متعدد سطحوں پر جانچ ضروری ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ فضائی نقل و حرکت سے متعلق حکومتی اور قانونی منظوری بھی ضروری ہوگی۔ اس لیے فی الحال ہپیڈا اسکائی نیکس کو ایک ابتدائی آزمائشی پروٹوٹائپ کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔
روی تمتا کی کوشش اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک پہاڑی علاقے سے تعلق رکھنے والے اختراع کار نے اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک پیچیدہ فضائی ٹیکنالوجی پر کام کیا اور اسے آزمائشی مرحلے تک پہنچایا۔ اگر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید محفوظ، قابل اعتماد اور قانونی تقاضوں کے مطابق بنایا جاتا ہے تو یہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں سفر اور ہنگامی رابطے کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔