Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

روزگار و مواقع💼

جنہیں کہا گیا کہ ڈرائیونگ لڑکیوں کا کام نہیں، آج وہی نوجوان خاتون اسکول بس، آٹو رکشہ اور اپنے خاندان کے خواب چلا رہی ہے

By Editor - Rahbar News
August 2, 2026 3 Min Read
0

( خاتون آٹو رکشہ ڈرائیور)

نئی دہلی: کورونا وبا نے دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کی زندگی بدل دی، لیکن ایک نوجوان لڑکی کے لیے یہ وقت زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوا۔ اسکول بند ہونے کے ساتھ ہی اس کے والد کی ملازمت ختم ہوگئی، جس سے گھر کی واحد آمدنی کا ذریعہ بھی بند ہوگیا۔ حالات مزید خراب اس وقت ہوئے جب اس کے والد کا بازو ٹوٹ گیا اور وہ کام کرنے کے قابل بھی نہ رہے۔ ایسے مشکل وقت میں پورے خاندان کی ذمہ داری اس نوجوان لڑکی کے کندھوں پر آ گئی۔

پرانا آٹو رکشہ بنا امید کی کرن

کورونا کے دوران روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن گھر میں ایک پرانا آٹو رکشہ موجود تھا۔ اسی آٹو رکشے کو اس نوجوان لڑکی نے اپنی امید بنا لیا۔ اس نے کبھی ڈرائیور بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی وہ کسی کو کچھ ثابت کرنا چاہتی تھی، مگر خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس نے آٹو رکشہ چلانے کا فیصلہ کیا۔

وہ ہر روز سڑکوں پر نکلتی، مسافروں کو منزل تک پہنچاتی اور جو بھی آمدنی ہوتی، اسی سے اپنے گھر کا خرچ چلاتی۔ اس کے لیے یہ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنے خاندان کو سہارا دینے کی جدوجہد تھی۔

ایک نہیں بلکہ دو ذمہ داریاں

جب اسکول دوبارہ کھلے تو اس نے صرف آٹو رکشہ چلانے پر اکتفا نہیں کیا۔ اس نے اپنے والد کی جگہ اسکول بس چلانے کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ ہر صبح وہ بچوں کو محفوظ طریقے سے اسکول لے جاتی اور واپس ان کے گھروں تک پہنچاتی، جبکہ شام کے وقت دوبارہ آٹو رکشہ چلا کر مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتی۔

یوں ایک ہی دن میں وہ دو مختلف ذمہ داریاں نبھانے لگی۔ صبح اسکول بس کی ڈرائیور اور شام کو آٹو رکشہ چلانے والی محنتی بیٹی۔

تنقید اور طعنے بھی سنے

اس کے اس فیصلے کو ہر کسی نے سراہا نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ “ڈرائیونگ عورتوں کا کام نہیں ہے”، جبکہ کچھ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ “اس سے شادی کون کرے گا؟”

کچھ افراد نے اس کے والد سے بھی پوچھا کہ وہ اپنی بیٹی کو یہ کام کیوں کرنے دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی نوجوان لڑکی کا حوصلہ ٹوٹ سکتا تھا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔

والد کا اعتماد سب سے بڑی طاقت بنا

جہاں معاشرے کے کئی لوگ اس پر تنقید کر رہے تھے، وہیں اس کے والد ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کبھی اپنی بیٹی کو روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کی۔

والد کے اعتماد اور حمایت نے اس نوجوان لڑکی کو مزید مضبوط بنایا اور وہ مسلسل اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی۔

آج دوسروں کے لیے مثال بن چکی ہے

آج بھی وہ ہر صبح اسکول بس چلاتی ہے اور شام کو آٹو رکشہ چلا کر اپنے خاندان کی کفالت میں حصہ ڈالتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنی کہانی بھی شیئر کرتی ہے تاکہ دوسری لڑکیاں بھی جان سکیں کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو مشکلات راستہ نہیں روک سکتیں۔

اس کا پیغام واضح ہے کہ ہمت، محنت اور ذمہ داری کسی ایک جنس کی میراث نہیں بلکہ ہر انسان کی طاقت بن سکتی ہے۔

حوصلے اور عزم کی ایک متاثر کن مثال

اس نوجوان خاتون کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے ہی انسان کو کامیاب بناتے ہیں۔ اس نے صرف اپنے خاندان کو سہارا دینے کے لیے سفر شروع کیا تھا، مگر آج وہ بے شمار نوجوان لڑکیوں کے لیے امید، حوصلے اور خود اعتمادی کی علامت بن چکی ہے۔ اس کی کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ خواب پورے کرنے اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کسی کی اجازت نہیں بلکہ مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔

📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

زندگی گزرتی جا رہی ہے، معلوم بھی نہیں ہو رہا… ہم روز تھوڑا تھوڑا موت کے قریب جا رہے ہیں، پھر ہماری اصل زندگی کا مقصد کیا ہے؟

Next

وڈودرا میں دردناک حادثہ: بارش سے گیلی سڑک پر اسکوٹی پھسلنے سے 17 سالہ ماہی سید کی موت، روڈ رولر کی زد میں آ گئی

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.