Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

مذہبی 🕌

زندگی گزرتی جا رہی ہے، معلوم بھی نہیں ہو رہا… ہم روز تھوڑا تھوڑا موت کے قریب جا رہے ہیں، پھر ہماری اصل زندگی کا مقصد کیا ہے؟

By Editor - Rahbar News
August 2, 2026 4 Min Read
0

(زندگی کا مقصد)

صبح آنکھ کھلتی ہے، روزگار کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی دفتر کی تیاری کرتا ہے، کوئی کاروبار میں مصروف ہو جاتا ہے، کوئی تعلیم حاصل کرنے نکل پڑتا ہے۔ دن بھر دوڑ دھوپ، شام کو تھکن، پھر رات کو نیند… اور یہی سلسلہ اگلے دن دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسی مصروفیت میں دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل جاتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب انسان پلٹ کر دیکھتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی تو خاموشی سے گزر گئی، مگر معلوم ہی نہ ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جتنے سانس لے رہا ہے، اتنا ہی اپنی آخری منزل کے قریب بھی جا رہا ہے۔ ہماری عمر بڑھ نہیں رہی، بلکہ کم ہو رہی ہے۔ ہر طلوع ہونے والا سورج ہماری زندگی کا ایک دن کم کر دیتا ہے، اور ہر غروب ہونے والا سورج ہمیں موت کے ایک دن اور قریب لے آتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
(سورۂ العنکبوت: 57)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ موت کوئی دور کی حقیقت نہیں بلکہ ہر انسان کا یقینی انجام ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو اس کی تاریخ معلوم نہیں۔

دنیا عارضی ہے، اصل زندگی آخرت ہے

آج کا انسان دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔ اچھی نوکری، بڑا گھر، مہنگی گاڑی، بینک بیلنس اور شہرت… ان سب کے حصول میں پوری زندگی لگا دیتا ہے۔ یہ چیزیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر انسان صرف انہی کو مقصدِ زندگی بنا لے تو وہ اصل کامیابی سے دور ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

“اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔”
(سورۂ آل عمران: 185)

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دنیا کو چھوڑ دیا جائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھا جائے۔ یہاں کیے گئے اعمال ہی وہاں ہماری کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔

انسان کو کیوں پیدا کیا گیا؟

یہ سوال ہر انسان کے ذہن میں کبھی نہ کبھی آتا ہے کہ آخر ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟

اس کا جواب خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے:

“اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
(سورۂ الذاریات: 56)

عبادت کا مطلب صرف نماز، روزہ یا حج نہیں، بلکہ زندگی کے ہر کام کو اللہ کی رضا کے مطابق انجام دینا بھی عبادت ہے۔ اگر کوئی شخص دیانت داری سے تجارت کرتا ہے، والدین کی خدمت کرتا ہے، کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے یا اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرتا ہے تو وہ بھی عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔

ہر دن ایک سرمایہ ہے

ہم اکثر کہتے ہیں کہ وقت گزر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت نہیں، ہم گزر رہے ہیں۔ ہر نیا دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی مہلت ہے تاکہ ہم اپنے اعمال بہتر بنا سکیں۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:

“اے انسان! تو چند دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو گویا تیرا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے۔”

یہ بات ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے دن کن کاموں میں گزار رہے ہیں۔ کیا ہمارا وقت اللہ کی رضا والے کاموں میں صرف ہو رہا ہے یا صرف دنیا کی دوڑ میں؟

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی خوشحالی کو تنگ دستی سے پہلے، اپنی فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔”
(مستدرک حاکم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کے پاس جو وقت اور نعمتیں موجود ہیں، وہ ہمیشہ نہیں رہیں گی۔ اس لیے انہیں اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال میں استعمال کرنا چاہیے۔

اصل کامیابی کیا ہے؟

آج کامیابی کا معیار دولت، شہرت اور عہدہ بن چکا ہے، لیکن اسلام کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو اللہ کی رضا حاصل کر لے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی کامیاب ہے۔”
(سورۂ آل عمران: 185)

یہی وہ کامیابی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر کامیابی ایک دن ختم ہو جائے گی، مگر آخرت کی کامیابی کبھی ختم نہیں ہوگی۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی بامقصد ہو تو ہمیں روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ پانچ وقت نماز کی پابندی کریں، قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر عمل کی کوشش کریں، والدین، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں، حلال روزی کمائیں، سچ بولیں، دوسروں کو تکلیف نہ دیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ انسان ایک ہی دن میں کامل بن جائے، لیکن روزانہ تھوڑا تھوڑا بہتر بننے کی کوشش ضرور کرے۔ اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

نتیجہ

زندگی واقعی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ موت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حقیقت سے ڈرنے کے بجائے ہمیں اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ دنیا میں رہتے ہوئے محنت کریں، تعلیم حاصل کریں، رزق کمائیں اور خاندان کی ذمہ داریاں نبھائیں، مگر یہ کبھی نہ بھولیں کہ یہ سب ایک امتحان کا حصہ ہے۔

اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوگی، جہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ شہرت اور نہ ہی دنیاوی طاقت۔ وہاں صرف ایمان، اخلاص اور نیک اعمال ہی انسان کے کام آئیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے، وقت کی قدر کرنے اور اپنی آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

حیدرآباد میٹرو بنی زندگی بچانے والی راہداری، صرف 25 منٹ میں عطیہ کردہ دل اور پھیپھڑے منتقل کیے گئے

Next

جنہیں کہا گیا کہ ڈرائیونگ لڑکیوں کا کام نہیں، آج وہی نوجوان خاتون اسکول بس، آٹو رکشہ اور اپنے خاندان کے خواب چلا رہی ہے

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.