حیدرآباد میٹرو بنی زندگی بچانے والی راہداری، صرف 25 منٹ میں عطیہ کردہ دل اور پھیپھڑے منتقل کیے گئے
حیدرآباد میٹرو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عوامی سفر کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں بھی یہ نظام زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے میٹرو کے ذریعے عطیہ کردہ دل اور پھیپھڑوں کو انتہائی کم وقت میں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال تک پہنچایا گیا، جس کے بعد ڈاکٹروں کو اہم ٹرانسپلانٹ سرجری انجام دینے میں مدد ملی۔
یہ خصوصی طبی منتقلی کیئر ہاسپٹل، گچی باؤلی سے کِمز ہاسپٹل، منسٹر روڈ، سکندرآباد تک کی گئی۔ حیدرآباد میٹرو ریل نے اعضاء کو مقررہ وقت کے اندر منزل تک پہنچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔
چودہ کلومیٹر کا سفر صرف 25 منٹ میں مکمل
عطیہ کردہ اعضاء کو رائے درگ میٹرو اسٹیشن سے رسول پورہ میٹرو اسٹیشن تک منتقل کیا گیا۔ اس دوران میٹرو نے 13 اسٹیشنوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 14 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 25 منٹ میں طے کیا۔
یہ تیز رفتار منتقلی ٹرانسپلانٹ کے عمل میں انتہائی اہم تھی، کیونکہ عطیہ کردہ اعضاء کو مخصوص وقت کے اندر مریض تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔
اسپتال اور میٹرو حکام کے درمیان بہترین تال میل
حکام کے مطابق یہ کامیاب مشن حیدرآباد میٹرو ریل، طبی ماہرین اور اسپتال انتظامیہ کے درمیان بہترین تعاون اور منصوبہ بندی کے ذریعے ممکن ہوا۔
تمام ضروری انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے تاکہ اعضاء کی منتقلی کے دوران کسی بھی قسم کی تاخیر نہ ہو اور ٹرانسپلانٹ کا اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔
حیدرآباد میٹرو کا نیا کردار
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ میٹرو صرف روزمرہ سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
زندگی بچانے والے طبی مشنز میں تیز اور محفوظ نقل و حمل فراہم کر کے حیدرآباد میٹرو نے شہری سہولیات کے ایک نئے پہلو کو اجاگر کیا ہے۔
ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل (حیدرآباد) لمیٹڈ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایسے ہنگامی طبی اقدامات کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مدد مل سکے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔