نظام آباد اردو تنازع پر ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: اسکول پرنسپل عامر خان کی گرفتاری پر ہائی کورٹ نے لگائی روک
حیدرآباد ڈیسک: تلنگانہ ہائی کورٹ نے نظام آباد کے آرمر علاقے میں واقع ایک نجی اسکول میں اردو پڑھانے کے تنازع پر بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کو پرنسپل عامر خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے پرنسپل کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حفاظتی حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پرنسپل کو جاری تفتیش میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہوگا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ پورا معاملہ جون کے مہینے میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب آرمر کے بھارت چندرا ہائی اسکول میں مبینہ طور پر بغیر اجازت اردو پڑھانے کو لے کر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ اس دوران کچھ مقامی سیاسی کارکنوں نے اسکول کے احاطے میں گھس کر پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں پرنسپل عامر خان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی تھی، جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی تھی۔ سیاسی لیڈروں کا الزام تھا کہ اسکول میں بچوں کو اردو کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی چیزیں سکھائی جا رہی ہیں، جبکہ پرنسپل کا کہنا تھا کہ کچھ والدین کی خواہش پر صرف دو دن ہی اردو کی کلاسیں لی گئی تھیں اور مخالفت کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔
پولیس کی کارروائی اور عدالت کا تحفظ:
اس واقعے کے بعد پولیس نے دونوں فریقین پر مقدمات درج کیے تھے۔ ایک طرف پرنسپل پر مارپیٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو دوسری طرف مقامی انتظامیہ کی شکایت پر اسکول انتظامیہ، پرنسپل اور ایک خاتون ٹیچر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے پرنسپل نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جہاں سے اب انہیں بڑی راحت مل گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے اس اہم فیصلے اور پورے معاملے کی تفصیلی رپورٹ نیچے دی گئی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔