پیٹرول میں اتھینول سے مائلیج کم ہونے کے تنازع پر نتن گڈکری کا بڑا بیان، پرانی گاڑیوں کے پرزے مفت تبدیل کرنے کا دیا حکم
ملک میں پیٹرول کے اندر بیس فیصد تھینول کی ملاوٹ یعنی نئے ایندھن کے استعمال کے بعد گاڑیوں کی کارکردگی اور مائلیج کم ہونے کو لے کر جاری بحث پر مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے پہلی بار کھل کر جواب دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ تھینول کی ملاوٹ کی وجہ سے گاڑیوں کے مائلیج پر معمولی اثر ضرور پڑتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر انجن اور گاڑی کے پرزے خراب ہونے کے جو دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ بالکل جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔
مائلیج کم ہونے کی اصل سائنسی وجہ:
مرکزی وزیر نے انٹرویو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ تھینول کی حرارتی طاقت (کیلوریفک ویلیو) عام پیٹرول کے مقابلے میں تھوڑی کم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جیسے جیسے ایندھن میں تھینول کی مقدار بڑھتی ہے، گاڑیوں کے اوسط مائلیج میں معمولی سی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائلیج کا دارومدار سڑکوں کی صورتحال اور ڈرائیونگ کے انداز پر بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، بڑے شہروں کی ٹریفک میں جہاں بار بار بریک لگانا پڑتا ہے اور گاڑی چھوٹے گیئرز میں چلتی ہے، وہاں مائلیج کا فرق زیادہ محسوس ہو سکتا ہے، جبکہ ہائی وے پر تیز اور یکساں رفتار سے گاڑی چلانے پر یہ فرق انتہائی معمولی ہوتا ہے۔
انجن خراب ہونے کے دعوے سراسر غلط:
نتن گڈکری نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان مہمات کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیا ایندھن گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کوئی ایک بھی ایسی گاڑی دکھا دیں جو اس نئے ایندھن کی وجہ سے خراب ہوئی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ایندھن کو ملک بھر میں متعارف کرانے سے پہلے گاڑی بنانے والی کمپنیوں اور سرکاری تحقیقی اداروں نے کئی سالوں تک اس کے متعدد ٹیسٹ کیے ہیں اور مکمل منظوری کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں لایا گیا ہے۔
پرانی گاڑیوں کے لیے سرکار کی ہدایات:
کچھ پرانی گاڑیوں کے پرزوں پر پڑنے والے معمولی اثرات کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تمام گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پرانی گاڑیوں میں جو واشر پہلے دھات کے ہوتے تھے، اب وہ ربڑ کے بنائے جا رہے ہیں۔ جب بھی ایسی پرانی گاڑیاں سروسنگ کے لیے کمپنی کے پاس جائیں گی، تو کمپنیاں گاہکوں سے کوئی اضافی چارج لیے بغیر ان پرزوں کو مفت تبدیل کر کے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کے لحاظ سے یہ ایندھن بہت بہتر ہے کیونکہ اس سے گاڑی میں جھٹکے لگنے کا عمل کم ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سے آلودگی میں نمایاں کمی آتی ہے اور ملک کا اربوں روپیہ باہر جانے سے بچتا ہے۔