سو کروڑ سے زائد مالیت کا امیتابھ بچن کا بنگلہ “جلسہ” کیسے ملا تھا تحفے میں؟ جانیں اس کے نام بدلنے کی کہانی
بالی ووڈ کے سدا بہار اداکار امیتابھ بچن کا ممبئی کے پوش علاقے جوہو میں واقع بنگلہ “جلسہ” محض ایک گھر نہیں بلکہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ سمندر کے سامنے واقع یہ پرتعیش اور عالیشان دو منزلہ عمارت کروڑوں روپے مالیت کی ہے، جہاں ہر اتوار کو اداکار اپنے مداحوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس بنگلے کی اپنی ایک انوکھی اور تاریخی کہانی ہے۔
تحفے میں ملا بنگلہ اور نام بدلنے کی کہانی:
رپورٹ کے مطابق، یہ بنگلہ امیتابھ بچن نے خود نہیں خریدا تھا، بلکہ ان کی مشہور فلم “ستے پہ ستہ” کے ڈائریکٹر رمیش سپی نے یہ شاندار جائیداد انہیں تحفے میں دی تھی۔ امیتابھ بچن کی رہائش گاہ بننے سے پہلے اس بنگلے کا نام “منسا” ہوا کرتا تھا۔ بعد میں ایک ماہرِ نجوم (علمِ نجوم کے ماہر) کے مشورے پر اس کا نام بدل کر “جلسہ” رکھا گیا، جس کا مطلب ہندی میں جشن یا محفل ہوتا ہے۔
ٹیکس بچانے کے لیے رشتہ دار کے نام رجسٹریشن:
اس جائیداد کے مالکانہ حقوق کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔ گزشتہ صدی کی اسی کی دہائی میں ٹیکس سے جڑے مسائل اور پچیدگیوں سے بچنے کے لیے اس پرتعیش بنگلے کو شروعات میں امیتابھ بچن کے بھائی اجیتابھ بچن کی اہلیہ رمولا بچن کے نام پر رجسٹرڈ کروایا گیا تھا۔ کئی دہائیوں کے بعد، تمام قانونی مراحل مکمل کر کے اس پراپرٹی کے مالکانہ حقوق باقاعدہ طور پر امیتابھ بچن کی اہلیہ جیا بچن کے نام منتقل کیے گئے۔
مشہور کلاسک فلموں کی شوٹنگ کا مرکز:
بچن خاندان کی نجی رہائش گاہ بننے سے پہلے یہ پوری اسٹیٹ ایک مشہور فلم پروڈیوسر کی ملکیت تھی۔ اس بنگلے کا نقشہ اور بناوٹ اتنی خوبصورت اور دلکش تھی کہ یہاں بالی ووڈ کی کئی کلاسک اور یادگار فلموں کی شوٹنگ کی گئی، جن میں “آنند”، “نمک حرام”، “چپکے چپکے” اور “ستے پہ ستہ” جیسی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔
اندرونی بناوٹ اور بچن خاندان کی جائیدادیں:
بنگلے کے اندرونی حصے کو جدید عیش و آرام اور روایتی خوبصورتی کا شاہکار بنایا گیا ہے۔ گھر کو چاندی اور پیتل کے نوادرات، فانوس اور مہنگی پینٹنگز سے سجایا گیا ہے۔ اس میں ایک بڑی لائبریری، میڈیا روم، جدید ترین جم اور ایک خوبصورت ذاتی مندر بھی موجود ہے۔ اس بنگلے کے علاوہ جوہو میں ہی بچن خاندان کے پاس کئی دیگر قیمتی جائیدادیں بھی ہیں، جن میں ان کا پرانا یادگار گھر “پرتیکشا” (جو محض ایک کلومیٹر کی دوری پر ہے)، دفتر کے لیے استعمال ہونے والا بنگلہ “جنک” اور بینک کو کرایے پر دیا گیا بنگلہ “وتسا” شامل ہیں۔