سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے گاؤ کشی سے متعلق حکم پر روک لگا دی تمل ناڈو حکومت کی عرضی پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم، مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد معطل
نئی دہلی ڈیسک: ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت (سپریم کورٹ) نے تمل ناڈو میں ذبیحہ پر لگی پابندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے نفاذ پر عبوری روک لگا دی ہے، جس کے ذریعے ریاست میں ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب اس پورے معاملے پر نئے سرے سے قانونی کارروائی شروع ہوگی۔
سپریم کورٹ کی بنچ کا حکم: معزز جج صاحبان جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کی بنچ نے اس حساس معاملے کی سماعت کی۔ تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دائر کی گئی چیلنج پٹیشن پر غور کرنے کے بعد، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت میں تمل ناڈو حکومت کی طرف سے سینیئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پرشانتو سین نے دلائل پیش کیے۔
ہائی کورٹ کا متنازع فیصلہ کیا تھا؟ واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل مدراس ہائی کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بنچ نے کوئمبٹور کے ایک شہری کی جانب سے دائر عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا کہ تمل ناڈو حکومتاس بات کو یقینی بنائے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر یا کسی بھی دوسرے دن ذبیحہ نہ کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کچھ ایسی آبزرویشنز بھی دی تھیں جن پر قانونی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔
ریاستی حکومت کا موقف اور اعتراضات: تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سخت چیلنج کیا ہے۔ ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات کے دائرے سے باہر جا کر یہ حکم دیا ہے۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اصل عرضی گزار نے صرف اتنی مانگ کی تھی کہ ذبیحہ عوامی مقامات پر نہ ہو بلکہ حکومت کے منظور شدہ باقاعدہ مذبح خانوںمیں ہو۔ پولیس نے اس کے لیے پہلے ہی سخت نگرانی اور انتظامات کر رکھے تھے۔
حکومت نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ نے اس بات پر بحث شروع کر دی کہ یہ عمل مذہبی دائرے میں لازمی ہے یا نہیں، جبکہ یہ معاملہ کسی بھی فریق کی طرف سے عدالت میں اٹھایا ہی نہیں گیا تھا۔ ریاستی حکومت کے مطابق، موجودہ قوانین ذبیحہ پر مکمل پابندی نہیں لگاتے بلکہ اس کے طریقہ کار کو باقاعدہ بناتے ہیں، اس لیے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ اب اس معاملے کی تفصیلی سماعت آنے والے دنوں میں کرے گی۔