مغربی بنگال کے مدرسہ اساتذہ کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا، ریگولر تقرری کی اپیل مسترد
کولکاتا / نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے تسلیم شدہ مدارس کے تین سو اکسٹھ سے زائد اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کی ملازمتوں کو باقاعدہ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی مضبوط قانونی بنیاد پیش نہیں کر سکے، اس لیے تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے مرحلے میں تیرہ درخواست گزاروں کے مقدمات کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔ اگر ان میں سے کسی ایک کا دعویٰ درست ثابت ہوتا تو باقی مقدمات پر بھی غور کیا جاتا، لیکن کوئی بھی درخواست گزار عدالت کو مطمئن نہیں کر سکا۔
عدالت نے کہا کہ اسی بنیاد پر نہ صرف ان تیرہ افراد بلکہ باقی تمام درخواست گزاروں کی درخواستیں بھی میرٹ سے خالی ہونے کے باعث مسترد کی جاتی ہیں۔
تنازع کی اصل وجہ
یہ معاملہ مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن قانون دو ہزار آٹھ سے متعلق ہے، جس کے تحت تسلیم شدہ مدارس میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا۔
کولکاتا ہائی کورٹ نے دو ہزار چودہ اور دو ہزار پندرہ میں اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، تاہم دو ہزار سولہ میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عبوری روک لگا دی۔ بعد ازاں چھ جنوری دو ہزار بیس کو سپریم کورٹ نے اس قانون کو آئینی طور پر درست قرار دے دیا۔
اس کے بعد تنازع اس بات پر پیدا ہوا کہ دو ہزار پندرہ سے دو ہزار بیس کے درمیان کی گئی تقرریاں قانونی تھیں یا نہیں۔
کمیٹی کی رپورٹ
سپریم کورٹ نے دو ہزار تیئیس میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس عرصے کے دوران کی گئی تقرریاں قانونی طور پر درست نہیں تھیں۔ متاثرہ ملازمین نے اسی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم اب عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔