صرف گیارہویں جماعت تک پڑھا… مگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے لاکھوں روپے کی آن لائن ٹھگی کا ماسٹر مائنڈ بن گیا! جانیے تفصیلات
سورت: گجرات کے شہر سورت کی سائبر کرائم برانچ نے اتر پردیش کے کانپور سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جعلی بینکنگ ایپس اور وائرس سے متاثرہ اے پی کے فائلیں تیار کرکے ملک بھر کے سائبر مجرموں کو فراہم کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے صرف گیارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، لیکن کم عمری میں ہی مصنوعی ذہانت اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز کی مدد سے ایسے جدید سافٹ ویئر تیار کر لیے جنہیں استعمال کرکے بینک کھاتوں سے رقم چوری کی جاتی تھی۔
کیس کیسے بے نقاب ہوا؟
تحقیقات کا آغاز مئی 2026 میں درج ایک سائبر فراڈ کیس سے ہوا، جب ایک شخص کو واٹس ایپ پر پنجاب نیشنل بینک کی سرکاری ایپ جیسی دکھائی دینے والی جعلی فائل موصول ہوئی۔
متاثرہ شخص نے اسے اصلی سمجھ کر اپنے موبائل میں انسٹال کر لیا، جس کے چند ہی لمحوں بعد اس کے بینک کھاتے سے 5 لاکھ روپے دوسرے بینک میں منتقل کر دیے گئے۔
چھاپہ مار کر گرفتار
شکایت کے بعد سورت سائبر کرائم ٹیم نے جدید تکنیکی تحقیقات کیں، جن کے نتیجے میں کانپور کے ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے اس کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی ضبط کیے ہیں۔
جعلی ایپس کیسے کام کرتی تھیں؟
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم دو مختلف قسم کی ایپس تیار کرتا تھا۔
ایک ایپ متاثرہ شخص کے موبائل میں انسٹال کی جاتی، جبکہ دوسری ایپ سائبر مجرم استعمال کرتے تھے۔
اس کے ذریعے مجرم متاثرہ شخص کے او ٹی پی، بینکنگ معلومات اور دیگر حساس تفصیلات حقیقی وقت میں دیکھ سکتے تھے اور چند لمحوں میں رقم نکال لیتے تھے۔
ہر ماہ لیتا تھا ہزاروں روپے
پولیس کے مطابق ملزم اپنا سافٹ ویئر ماہانہ بنیاد پر کرائے پر دیتا تھا۔
ابتدائی تنصیب کے لیے 15 ہزار روپے اور بعد ازاں ہر ماہ 15 ہزار روپے وصول کیے جاتے تھے۔
وہ مختلف بینکوں، سرکاری محکموں اور بڑی کمپنیوں کی نقل پر جعلی ایپس تیار کرتا تھا، جن میں پنجاب نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ایکسس بینک، یوکو بینک اور دیگر اداروں کے نام شامل ہیں۔
مزید گرفتاریاں متوقع
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی نامعلوم لنک یا اے پی کے فائل کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں، کیونکہ معمولی سی لاپرواہی بھی بھاری مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔