ڈینگی کے خلاف بڑی خوشخبری! بھارت میں پہلی مرتبہ ویکسین کو منظوری، جانیے کن لوگوں کو لگے گی
نئی دہلی: بھارت نے ڈینگی سے بچاؤ کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ملک کی پہلی ڈینگی ویکسین کو منظوری دے دی ہے۔ ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) نے ٹاکیڈا بایوفارماسیوٹیکلز کی تیار کردہ کیو ڈینگا (ٹی اے کے-003) ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جسے صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ویکسین 4 سے 60 سال عمر کے افراد کے لیے منظور کی گئی ہے اور اسے دو خوراکوں کی صورت میں دیا جائے گا، جن کے درمیان تین ماہ کا وقفہ ہوگا۔
چاروں اقسام کے ڈینگی وائرس سے تحفظ
کیو ڈینگا ایک زندہ مگر کمزور کیے گئے وائرس پر مبنی ویکسین ہے، جسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ڈینگی وائرس کی چاروں اقسام کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اسے لگوانے سے پہلے یہ جانچنے کی ضرورت نہیں کہ کسی شخص کو پہلے کبھی ڈینگی ہوا تھا یا نہیں۔
بھارت میں ڈینگی کیوں بڑا چیلنج بن چکا ہے؟
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں ڈینگی کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں تقریباً 11 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں سامنے آنے والے ڈینگی کے مریضوں میں تقریباً ایک تہائی بھارت سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں ڈینگی کتنا خطرناک ہے؟
عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی طبی اداروں کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 40 کروڑ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ 13 ہزار 500 سے لے کر 40 ہزار سے زائد افراد اس بیماری کے باعث اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈینگی کے بہت سے مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا ان کی رپورٹ درج نہیں ہو پاتی، اسی لیے اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
سال 2024 میں عالمی ادارۂ صحت نے ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کرنے کی تصدیق کی تھی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کے خلاف مؤثر ویکسین کی منظوری کو صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
طبی آزمائشوں میں مؤثر نتائج
اس ویکسین کی منظوری دنیا بھر میں کیے گئے 19 مختلف طبی آزمائشی مراحل کی بنیاد پر دی گئی، جن میں 28 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
مرحلہ سوم کی سب سے بڑی آزمائش میں 20 ہزار سے زیادہ افراد شامل تھے، جس کے نتائج کے مطابق:
دوسری خوراک کے ایک سال بعد ویکسین کی 80.2 فیصد مؤثریت سامنے آئی۔
ڈینگی کے باعث اسپتال میں داخلے کے خطرے میں 90.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ساڑھے چار سال بعد بھی اسپتال میں داخلے سے بچاؤ کی شرح 84.1 فیصد برقرار رہی۔
سات سال تک کے جائزے میں بھی ویکسین نے مؤثر تحفظ فراہم کیا۔
بھارت میں بھی کامیاب آزمائش
بھارت میں 4 سے 60 سال عمر کے افراد پر کیے گئے مرحلہ سوم کے مطالعے میں بھی اس ویکسین کو محفوظ، مؤثر اور اچھی طرح برداشت کیے جانے والا قرار دیا گیا۔
43 ممالک میں پہلے ہی استعمال ہو رہی ہے
کمپنی کے مطابق کیو ڈینگا کو اب تک 43 ممالک میں منظوری مل چکی ہے اور دنیا بھر میں اس کی 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت بھی ڈینگی سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اس ویکسین کے استعمال کی سفارش کر چکا ہے۔ برازیل، ارجنٹینا، کولمبیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک کے قومی حفاظتی ٹیکہ پروگرام میں بھی یہ ویکسین شامل کی جا چکی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ٹاکیڈا نے کہا ہے کہ وہ بھارتی ریگولیٹری اداروں، صحت کے ماہرین اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی، تاکہ مستقبل میں ڈینگی کے باعث ہونے والی بیماری، اسپتال میں داخلے اور اموات کی شرح کو کم کیا جا سکے۔