کلومیٹر فی گھنٹہ (320) کی رفتار سے دوڑے گی بلٹ ٹرین! آخر اتنی تیز رفتار کے لیے کیسا نظام درکار ہوتا ہے؟ جانیے تفصیلات
نئی دہلی: بھارت کے بلٹ ٹرین منصوبے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل راہداری ملک کی پہلی ایسی ریلوے لائن بننے جا رہی ہے جہاں 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینوں کے لیے خصوصی ہائی اسپیڈ برقی نظام نصب کیا جا رہا ہے۔
قومی ہائی اسپیڈ ریل کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ ایس آر سی ایل) کے مطابق 508 کلومیٹر طویل اس منصوبے میں پہلی بار 2×25 کلو وولٹ اوورہیڈ ٹریکشن نظام استعمال کیا جا رہا ہے، جو تیز رفتار ٹرینوں کو مسلسل اور بلا تعطل بجلی فراہم کرے گا۔
(14) برقی مراکز سے بجلی کی فراہمی
اس منصوبے کے لیے قومی بجلی گرڈ سے توانائی حاصل کی جائے گی، جسے 14 خصوصی ٹریکشن سب اسٹیشنز کے ذریعے مختلف حصوں تک پہنچایا جائے گا۔
ان میں:
مہاراشٹر میں 5 مراکز
گجرات میں 9 مراکز
قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ ٹرین ایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل ہوتے وقت بجلی کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
22 ہزار اسٹیل کے کھمبے نصب ہوں گے
بلٹ ٹرین کے برقی نظام کے لیے تقریباً 22 ہزار اسٹیل کے کھمبے اور 25 ہزار 700 سے زائد خصوصی کینٹی لیور اسمبلیاں نصب کی جائیں گی۔
یہ جدید نظام ٹرین کے پینٹوگراف کو مسلسل اور ہموار انداز میں بجلی فراہم کرے گا، جس سے 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر بھی بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوگی۔
زلزلے کی صورت میں ٹرین فوری روک دی جائے گی
منصوبے میں مسافروں کی حفاظت کے لیے جدید زلزلہ نگرانی کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔
کل 28 زلزلہ پیما آلات نصب کیے جا رہے ہیں، جو زمین میں معمولی لرزش محسوس ہوتے ہی چند سیکنڈ میں نظام کو خبردار کریں گے اور ضرورت پڑنے پر بلٹ ٹرین کو فوری طور پر روک دیا جائے گا۔
جدید سہولیات سے لیس منصوبہ
اس کے علاوہ 31 سوئچنگ پوسٹس اور 16 ڈسٹری بیوشن سب اسٹیشنز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، جو اسٹیشنوں، سگنلنگ، دیکھ بھال کے مراکز اور دیگر آپریشنل نظام کو بجلی فراہم کریں گے۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ منصوبہ ملک کے ریلوے نظام کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔