چین نے دنیا کا سب سے بڑا 582 ٹن وزنی سپر کنڈکٹنگ میگنیٹ تیار کر لیا، مصنوعی سورج بنانے کی جانب بڑا قدم
چین نے مصنوعی سورج منصوبے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ فیوژن میگنیٹ تیار کرکے کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ یہ کامیابی صاف اور تقریباً لامحدود توانائی حاصل کرنے کے لیے نیوکلیئر فیوژن ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ دیوہیکل میگنیٹ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے تیار کیا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 582 ٹن ہے، جبکہ اس کی لمبائی 21 میٹر اور چوڑائی 12 میٹر ہے۔
مصنوعی سورج کیا ہے؟
مصنوعی سورج دراصل ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر ہے جو سورج میں ہونے والے عمل کی نقل کرتا ہے۔ اس میں ہائیڈروجن کے ایٹمز کو انتہائی زیادہ درجہ حرارت پر آپس میں ملایا جاتا ہے، جس سے بڑی مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نہیں ہوتا۔
اس میگنیٹ کا کام ری ایکٹر کے اندر تقریباً 10 کروڑ ڈگری سیلسیس تک گرم پلازما کو طاقتور مقناطیسی میدان کے ذریعے قابو میں رکھنا ہے، تاکہ وہ ری ایکٹر کی دیواروں سے نہ ٹکرائے۔
چینی سائنسدانوں کے مطابق یہ میگنیٹ انٹرنیشنل تھرمو نیوکلیئر تجرباتی ری ایکٹر جیسے بڑے عالمی منصوبوں میں استعمال ہونے والے میگنیٹس سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔
چین کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے اہم اجزا مقامی طور پر تیار کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے دوران 47 پیٹنٹس اور 25 صنعتی معیار بھی تیار کیے گئے ہیں۔
انجینئرز کے مطابق یہ میگنیٹ تقریباً 60 سال تک انتہائی کم درجہ حرارت (منفی 269 ڈگری سیلسیس کے قریب) پر کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس میں ایک لاکھ ایمپیئر سے زیادہ بجلی کا کرنٹ گزارا جا سکتا ہے۔
چین کا منصوبہ ہے کہ 2027 تک مزید جدید فیوژن تجربات مکمل کیے جائیں اور تقریباً 2030 تک فیوژن توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی کئی بڑے چیلنجز باقی ہیں، جن میں مکمل ری ایکٹر کی تیاری، طویل مدتی تجربات اور یہ ثابت کرنا شامل ہے کہ ری ایکٹر استعمال ہونے والی توانائی سے زیادہ توانائی پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں دنیا کو صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کا ایک نیا ذریعہ مل سکتا ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔